غزل نمبر11
Ghazal No. 11
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)
قافیہ: ورا
صنف: غزل/قصیده/قطعه
از ما بگو سلامی آن ترک تند خو را
کاتش زد از نگاهی یک شهر آرزو را
ہماری طرف سے اس ظالم محبوب کو سلام کہنا کہ تو نے ایک نگاہ سے تمنا کا پورا شہر پھونک ڈالا ۔
Convey my salutation to that fire-eating Turk who set aflame with one glance a city full of longing.
این نکته را شناسد آندل که دردمند است
من گرچه توبه گفتم نشکسته ام سبو را
یہ نکتہ صرف درد مند ہی سمجھ سکتا ہے میں نے اگرچہ توبہ کا اعلان کیا مگر پیالہ توڑا نہیں (واپسی کی گنجائش رکھی ہوئی ہے) ۔
The point of this will be seen by a sympathetic heart: I swore to drink no more, but did not break the jar of wine.
ای بلبل از وفایش صد بار با تو گفتم
تو در کنار گیری باز این رمیده بو را
اے بلبل میں نے سو بار تجھے اس کی وفا کا حال سنایا تو پھر اس رمیدہ بو کو سینے سے لگا لیتی ہے ۔
O nightingale, I warned you many times against the rose’s infidelity; but you persist in clinging to its scentless skeleton.
رمز حیات جوئی جز در تپش نیابی
در قلزم آرمیدن ننگ است آب جو را
تو زندگی کی رمز تلاش کرتا ہے تو اسے صرف تپش میں پائے گا ۔ ندی کے لیے سمندر میں گم ہو جانا باعث شرم ہے (زندگی نام ہے مسلسل تڑپتے رہنے کا ، خود ی کے لیے یہ بات تو موجب تو نہیں ہے کہ وہ اپنی ہستی کو خدا کی ہستی میں مدغم کر دے ۔
The secret of life, if you want to know it, lies in restlessness. It would be shameful for a stream to go on resting in the sea.
شادم که عاشقان را سوز دوام دادی
درمان نیافریدی آزار جستجو را
میں خوش ہوں کہ تو نے عاشقوں کو سوزدوام عطا کیا اور طلب کے روگ کا علاج نہیں پیدا کیا ۔
O I am happy that to lovers you have granted restless souls and that You have created no cure for the malady of seeking.
گفتی مجو وصالم بالا تر از خیالم
عذر نو آفریدی اشک بهانه جو را
تو نے کہا میرے وصال کی طلب مت کر میں خیال سے بھی بلند ہوں ۔ بہانہ ڈھونڈنے والے آنسووَں کو تو نے راہ سجھا دی ۔ تیرے اس قول نے میرے اشکوں کو از سر نو رواں ہونے کا ایک نیا عذر مہیا کر دیا یعنی جب تو نے یہ کہا کہ میر ا وصل ناممکن ہے تو میرے آنسو پھر بہنے لگے ۔
‘Do not seek union with Me, for I transcend all thought.’ By saying this You gave my tears a new excuse for flowing.
از ناله بر گلستان آشوب محشر آور
تا دم به سینه پیچد مگذار های و هو را
Create a furor in the garden, storm it with your lament. Until breath gets choked in your breast do not give up your wailing.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور