غزل نمبر10
Ghazal No. 10
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
هوای فرودین در گلستان میخانه میسازد
سبو از غنچه میریزد ز گل پیمانه میسازد
بہار کی ہوا نے گلستان کے اندر میخانہ بنا دیا ہے ۔ موسم بہار میں گلستان کو دیکھو تو میخانہ معلوم ہوتا ہے ۔ غنچے سے صراحی بن رہی ہے پھول کو پیالہ بنا رہی ہے یعنی غنچہ سبو ہے اور گل اس کا پیمانہ ۔
The breeze of spring makes of the garden a wine-tavern. It casts buds into jar-shapes, and makes of flowers cups.
محبت چون تمام افتد رقابت از میان خیزد
به طوف شعلهای پروانه با پروانه میسازد
جب محبت مکمل ہو جائے تو رقابت درمیان سے اٹھ جاتی ہے ۔ پروانے ایک دوسرے سے مل کر ایک ہی شعلے کا طواف کرتے ہیں ۔ (کوئی پروانہ کسی پروانے سے جنگ و جدل میں مصروف نہیں ہوتا بلکہ سب مل کر محبوب کا طواف کرتے ہیں ) ۔
When love attains its climax, then no rivalry remains. In flitting round a candle; moths join hands with one another.
به ساز زندگی سوزی به سوز زندگی سازی
چه بیدردانه میسوزد چه بیتابانه میسازد
زندگی کے ساز میں ایک سوز ہے اور زندگی کا سوز ساز سے خالی نہیں ہے (یعنی عاشق میں سوز کے ساتھ ساز کی کیفیت بھی برقرار رہتی ہے) ۔ کس بیدردی سے سوز توڑتا ہے کس بے تابی سے ساز جوڑتا ہے ۔
Life builds, but also burns; and what it burns it builds again. How ruthlessly it burns! How eagerly it builds!
تنش از سایهٔ بال تذروی لرزه میگیرد
چو شاهین زادهٔ اندر قفس با دانه میسازد
اس کا بدن چکور کے پر کے سایہ سے بھی کانپ اٹھتا ہے ۔ جب کوئی شاہیں بچہ پنجرے کے اندر دانہ پر راضی ہو جاتا ہے (جب مرد مومن، غیر اللہ کی غلامی اختیار کر لیتا ہے تو اس میں اس قدر بزدلی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ کافر کو دیکھ کر لرزہ براندام ہو جاتا ہے یعنی جہاد نہیں کر سکتا ۔ )
An eagle in a cage, when he accepts food offered, becomes so timid that he trembles on seeing shadows of quails’ wings.
بگو اقبال را ای باغبان رخت از چمن بندد
که این جادو نوا ما را ز گل بیگانه میسازد
اے باغبان اقبال سے کہہ دے کہ وہ چمن سے نکل جائے کیونکہ یہ جادو نوا ہمیں پھول سے بیگانہ کر رہا ہے(ہمارے اندر پھولوں کی رغبت نہیں رہی ۔ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ اگر قوم میرے کلام کو سمجھ لے تو دنیا اور اس کی فانی لذتوں سے بیگانہ ہو کر اپنے مقصد حقیقی کے حصول کی طرف راغب ہو سکتی ہے ۔ )
O gardener, tell Iqbal to be off from the garden, for this spellbinding singer makes men forget the roses.
زمین
فرنگیطلعتی کز دین مرا بیگانه میسازد
اگر در کعبه رو میآورد بتخانه میسازد
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3013
به داغی عشق کار مردم دیوانه میسازد
خوش آن ساقی که کار بحر از پیمانه میسازد
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 3014
خرد، دارالشفا و جهل، محنتخانه میسازد
خراب مستیام، کاین هردو را ویرانه میسازد
عرفیغزلیاتغزل شمارهٔ 225
هوای کوی او آوارهام از خانه میسازد
فسون او پدر را از پسر بیگانه میسازد
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 249
چو عریان شد چمن مرغ از ضرورت خانه میسازد
چو قحط گل بود بلبل به آب و دانه میسازد
نظیری نیشابوریدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 250
فارسی متن کا ماخذ: گنجور