غزل نمبر9
Ghazal No. 9
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: ستممن
صنف: غزل/قصیده/قطعه
صورت نپرستم من بتخانه شکستم من
آن سیل سبک سیرم هر بند گسستم من
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔
I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.
در بود و نبود من اندیشه گمانها داشت
از عشق هویدا شد این نکته که هستم من
میرے ہونے اور نہ ہونے میں عقل طرح طرح کے گمان میں تھی یہ راز عشق سے کھلا (عشق سے یہ نکتہ ظاہر ہوا) کہ میں موجود ہوں ۔
About my being or non-being thought was in doubt. But Love made manifest the fact that I exist.
در دیر نیاز من در کعبه نماز من
زنار بدوشم من تسبیح بدستم من
میں مندر میں پجاری، میں ہی کعبے میں نمازی میرے کندھے پر زنار میرے ہاتھ میں تسبیح (عاشق ہر شے اور ہر مقام میں خواہ دیر ہو یا حرم ، خدا ہی کا جلوہ دیکھتا ہے اس کی نظر میں زنار اور تسبیح دونوں یکساں ہو جاتے ہیں ) ۔
I worship in the idol-house, and I pray in the Ka‘bah, around my neck the sacred thread, and in my hand the rosary.
سرمایه درد تو غارت نتوان کردن
اشکی که ز دل خیزد در دیده شکستم من
تیرے درد کی پونجی غارت نہیں کی جا سکتی دل سے جو آنسو امڈ کے آتا ہے میں اسے آنکھوں سے دھر لیتا ہوں ۔
I dare not waste the wealth of grief you have bestowed on me. So I stem in my eyes the tears that well up from my heart.
فرزانه به گفتارم دیوانه به کردارم
از باده شوق تو هشیارم و مستم من
قول میں دانا ہوں عقل میں دیوانہ ہوں تیری چاہت کی شراب سے میں ہوشیار بھی ہوں اور مست بھی (تیری محبت نے میرے اندر دو متضاد کیفیتیں پیدا کر دی ہیں ۔ فرزانہ (ہوشیار) بھی ہوں اور دیوانہ (مست) بھی ہوں ۔
Wise in my words, I am mad in my deeds. Drunk with the wine of love for you, I am still fully sober.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور