صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 8

غزل شمارهٔ 8

غزل نمبر8

Ghazal No. 8

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: نگاست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است

چمن ز باد بهاران جواب ارژنگ است

آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔

Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.

2

حنا ز خون دل نو بهار می بندد

عروس لاله چه اندازه تشنه رنگ است

نئی نویلی بہار کے دل کے لہو سے مہندی لگا رہی ہے عروس لالہ رنگ رچانے کی کتنی پیاسی ہے ۔

The tulip-bride has used for henna the beart’s blood of the spring. How greedily, how lustily, she hankers after colour!

3

نگاه میرسد از نغمهٔ دل افروزی

به معنیی که برو جامهٔ سخن تنگ است

دل کو روشن کرنے والے نغمے سے نظر پہنچ رہی ہے اس معنی تک جس پر حرف کا جامہ تنگ ہے (جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتے) ۔ یعنی موسم بہار میں مطرب دلنواز (مرشد) جب نغمہ سرائی کرتا ہے تو سامعین (عاشقوں ) پر وہ روحانی حقائق منکشف ہوتے ہیں کہ لفظوں کے ذریعے سے ان کا بیان ناممکن ہے ۔

The eye can grasp, with the aid of a hearty song, a meaning that is too big for the garment of mere words.

4

به چشم عشق نگر تا سراغ او گیری

جهان بچشم خرد سیمیا و نیرنگ است

عشق کی آنکھ سے دیکھ تا کہ تو جہان کا سراغ پا سکے، عقل کی نظر میں تو یہ محض سحر و ساحری ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Look with the eyes of Love so that you find some trace of Him. To reason’s eye the world is nothing but illusion and deceit.

5

ز عشق درس عمل گیر و هر چه خواهی کن

که عشق جوهر هوش است و جان فرهنگ است

عشق سے عمل کا سبق لے اور پھر جو چاہے کر کیونکہ عاشق سمجھ کا جوہر ہے اور عقل کی روح (جان) ہے ۔

From Love learn how to act, and then do what you like; for Love is the quintessence of sagacity and sense.

6

بلند تر ز سپهر است منزل من و تو

براه قافله خورشید میل فرسنگ است

ہماری منزل آسمان سے بھی زیادہ بلند ہے سورج قافلے کی راہ میں کوس کے پہلے میل پر ہے ۔

Your final goal and mine are higher than the heavens. The sun is but a milestone on the highway of our caravan.

7

ز خود گذشته ئی ای قطره محال اندیش

شدن به بحر و گهر برنخاستن ننگ است

اے انہونی سوچنے والے قطرے تو اپنے آپ سے گزر گیا ہے ورنہ سمندر میں مل جاتا اور موتی بن کے نہ نکلنا باعث شرم ہے ۔

You have surpassed yourself, O water-drop. It were a great shame to get to the sea, and then not come up as a pearl.

8

تو قدر خویش ندانی بها ز تو گیرد

وگرنه لعل درخشنده پاره سنگ است

تو اپنا مول نہیں جانتا، تیری وجہ سے تو لعل درخشاں قیمت پاتا ہے ورنہ جگر جگر کرتا یاقوت تو پتھر کا ٹکڑا ہے ۔

You do not know your worth. The shining ruby is a mere stone: it acquires its preciousness from you.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به ملازمان سلطان خبری دهم ز رازی

که جهان توان گرفتن بنوای دلگدازی

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 7

اگلی نظم

صورت نپرستم من بتخانه شکستم من

آن سیل سبک سیرم هر بند گسستم من

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 9

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور