غزل نمبر22
Ghazal No. 22
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: امیدارم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم
دست بر سینه نظر بر لب بامی دارم
میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔
O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.
حسن می گفت که شامی نپذیرد سحرم
عشق می گفت تب و تاب دوامی دارم
حسن کہتا تھا کہ میری سحر شام قبول نہیں کرتی ( میں لازوال ہوں ) عشق کہتا تھا میری تب و تاب لایزال (دوائمی) ہے ۔
‘My day’, said Beauty, ‘knows no evening.’ ‘I burn eternally’, said Love.
نه به امروز اسیرم نه به فردا نه به دوش
نه نشیبی نه فرازی نه مقامی دارم
میں نہ آج کا اسیر ہوں نہ کل کا نہ میں نشیب و فراز رکھتا ہوں نہ کوئی منزل ۔
I am a prisoner of no yesterday, of no tomorrow, no today; I have no station, high or low.
بادهٔ رازم و پیمانه گساری جویم
در خرابات مغان گردش جامی دارم
میں غیب کی شراب ہوں اور ہم پیالہ ڈھونڈتا ہوں ۔ میں مستوں کے حلقے میں پیالے کو گردش میں رکھتا ہوں ۔
I am the wine of mystery in search of one to drink me up. So in the Magi’s wine-house I rotate like a wine-cup.
بی نیازانه ز شوریده نوایم مگذر
مرغ لاهوتم و از دوست پیامی دارم
میری مجذوب کی پکارر ان سنی کر کے مت گزر ۔ میں لاہوت کا پرندہ ہوں اور دوست کا پیغام لایا ہوں ۔
Do not pass unconcernedly by my distracted song, for I am a celestial bird charged with a message from the Friend.
پرده برگیرم و در پرده سخن میگویم
تیغ خونریزم و خود را به نیامی دارم
میں ان دیکھے کو دکھا دیتا ہوں مگر کلام چھپا کے کرتا ہوں میں خون بہانے والی تلوار ہوں لیکن خود کو نیام میں رکھتا ہوں ۔ (اگرچہ میں رموز قلندری فاش کر رہا ہوں لیکن میرا انداز بیان رمزیہ ہے یعنی میں ا ستعاروں میں گفتگو کرتا ہوں ) ۔
I draw the curtain and behind it speak. O I am a blood-shedding sword, but I keep myself sheathed.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور