غزل نمبر23
Ghazal No. 23
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
به شاخ زندگی ما نمی ز تشنه لبی است
تلاش چشمهٔ حیوان دلیل کم طلبی است
ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔
The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.
حدیث دل به که گویم چه راه بر گیرم
که آه بی اثر است و نگاه بی ادبی است
دل کی بات کس سے کہوں کون سی راہ نکالوں (کہاں جاؤں ) کہ آہ بے اثر ہے اور نظر اٹھانا بے ادبی ہے ۔
Whom shall I tell the story of my heart and in what way? For sighs are ineffectual and looking is irreverence.
غزل به زمزمه خوان پرده پست تر گردان
هنوز نالهٔ مرغان نوای زیر لبی است
غزل دھیمے دھیمے گنگنا، لے اور مدھم رکھ(تاکہ سر تیز ہو) کیونکہ ابھی پرندوں کا نالہ ہونٹوں میں دبا ہوا گیت ہے ۔
Chant your ghazals, but let the key be very low; for birdsong here is still in undertones.
متاع قافلهٔ ما حجازیان بردند
ولی زبان نگشائی که یار ما عربی است
حجازیوں نے ہمارے قافلے کا سامان لوٹ لیا ہے مگر زبان مت کھولنا کہ ہمارا محبوب بھی عربی ہے ۔
Men of Hijaz have robbed our caravan of all its goods. But silence! For our friend is from Arabia.
نهال ترک ز برق فرنگ بار آورد
ظهور مصطفوی را بهانه بولهبی است
ترکوں کا پودا فرنگ کی بجلی سے پھل لایا (مصطفی کمال پاشا کی کامیابی کی طرف اشارہ ہے) ۔ جناب رسول پاک کے لیے بولہبی تو ایک بہانہ ہے ۔
The tree of the Turks has borne fruit because it was struck by the lightning of the West. The advent of the Chosen One took place because of Abu Lahabism.
مسنج معنی من در عیار هند و عجم
که اصل این گهر از گریه های نیم شبی است
میرے کہے ہوئے بھید (اشعار) کو ہند اور ایران کی کسوٹی پر مت پرکھ ۔ اس گوہر کی اصل نیم شبی کے آنسووَ ں سے ہے ۔
Do not assess what I sing by the standards of Iran and Hindustan. It is a gem which is the product of nocturnal tears.
بیا که من ز خم پیر روم آوردم
می سخن که جوان تر ز باده عنبی است
آ کہ میں پیر روم کے مٹکے سے لایا ہوں (میرا کلام اور پیغام پیر رومی کی تعلیمات سے ماخوذ ہے) سخن کی شراب جو انگوری شراب سے بڑھ کر تند ہے (میری شراب پیر روم کے میخانہ سے آئی ہے اس لیے اس میں انگوری شراب سے کہیں زیادہ مستی ہے) ۔
Come, I have brought from the vat of the guide of Rum the wine of poesy, much younger than the wine of grapes.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور