صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 24

غزل شمارهٔ 24

غزل نمبر24

Ghazal No. 24

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: انه

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

این جلوت جانانه آن خلوت جانانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.

2

شادم که مزار من در کوی حرم بستند

راهی ز مژه کاوم از کعبه به بتخانه

میں خوش ہوں کہ میری قبر کوئے حرم میں بنائی گئی ہے کعبے سے بتخانے تک پلکوں سے ایک راستہ کھود لوں گا ۔

I am glad my grave has been built in the Harem’s own street. With my eyelashes I will dig a tunnel from the Ka‘bah to the idol-house. (A Message from the East).

3

از بزم جهان خوشتر از حور جنان خوشتر

یک همدم فرزانه وز باده دو پیمانه

دنیا و مافیہا سے اچھی حور اور جنت سے بہتر ایک ہوشیار ساتھی اور شراب کے دو پیالے ۔

Better than any company in this world or the next are a sagacious friend and two goblets of wine.

4

هر کس نگهی دارد هر کس سخنی دارد

در بزم تو می خیزد افسانه ز افسانه

ہر شخص نگاہ رکھتا ہے اس لیے مجھے دیکھتا ہے ہر آدمی کے پاس اپنی ایک بات ہے ۔ تیری محفل میں کہانی سے کہانی نکلتی چلی جاتی ہے ۔

Here everyone has eyes and everyone a tongue. So in your company one story breeds another.

5

این کیست که بر دلها آورده شبیخونی

صد شهر تمنا را یغما زده ترکانه

یہ کون ہے جس نے دلوں پر شبخون مارا ہے تمنا کے سینکڑوں شہر ترکوں کی طرح تاراج کر دیے ہیں ۔

Who is He Who has launched a night-attack on hearts, who like a Turk has plundered a hundred cities of desire?

6

در دشت جنون من جبریل زبون صیدی

یزدان به کمند آور ای همت مردانه

میری دیوانگی کے صحرا میں جبریل ایک گرا پڑا شکار ہے ۔ اے ہمت مرداں یزداں پر کمند ڈال (محبت میں اللہ تعالیٰ کو لا ۔ اپنے اندر خدائی صفات کا رنگ پیدا کر اور یہ رنگ عشق رسول کی بدولت پیدا ہو سکتا ہے) ۔

Where I roam in my mad pursuit the angel Gabriel is but small game. Come, O my manly courage, cast a lasso upon God Himself.

7

اقبال به منبر زد رازی که نباید گفت

نا پخته برون آمد از خلوت میخانه

اقبال نے منبر پر چڑھ کر وہ راز کہہ دیا جو کہنے کا نہ تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خلوت میخانہ سے ناپختہ ہی باہر آ گیا ہے ۔

Iqbal has in the pulpit blurted out a secret that was not to be revealed. Well, he had issued forth still raw from the wine-tavern’s privacy.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به شاخ زندگی ما نمی ز تشنه لبی است

تلاش چشمهٔ حیوان دلیل کم طلبی است

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 23

اگلی نظم

بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

بی تو بودن نتوان با تو نبودن نتوان

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 25

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای جان چو سخن گویم، مستانه و رندانه

سرمستم و لایعقل، زان نرگس مستانه

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1703

من، بی‌خود و تو، بی‌خود؛ ما را کِه بَرَد خانِه؟

من، چند، تو را گفتم: «کم خور دو سه پیمانه!»؟

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2309

آن یار غریب من آمد به سوی خانه

امروز تماشا کن اشکال غریبانه

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2319

بی‌برگی بستان بین کآمد دی دیوانه

خوبان چمن رفتند از باغ سوی خانه

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2320

ای دل به کجایی تو آگاه هیی یا نه

از سر تو برون کن هی سودای گدایانه

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2321

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور