صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 51 - تهذیب

بخش 51 - تهذیب

تہذیب

Civilization

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

انسان که رخ ز غازهٔ تهذیب بر فروخت

خاک سیاه خویش چو آئینه وانمود

انسان جس نے تہذیب کے غازے سے اپنا چہرہ چمکا رکھا ہے اپنی خباثت کو اجلا کر کے ظاہر کیا (اپنی سیاہ خاک کو آئینہ بنا رکھا ہے) ۔

Man, who has brightened up his face with civilization’s rouge, displays the dark dust which is he as if it were a mirror.

2

پوشید پنجه را ته دستانه حریر

افسونی قلم شد و تیغ از کمر گشود

جس نے اپنا ہاتھ ریشمی دستانے میں چھپا رکھا ہے قلم سے مسحور پر جانے والا بن گیا اور تلوار کمر سے کھول دی ۔

He hides his iron fist under a velvet glove. Charmed by the pen, he has laid off the sword.

3

این بوالهوس صنم کدهٔ صلح عام ساخت

رقصید گرد او به نواهای چنگ و عود

اس ابو الہوس نے صلح عام کا بت خانہ بنایا چنگ اور بربط کی دھنوں پر اسکے گرد ناچا ۔

This slave of lust once built an idol-temple of world peace, and danced around it to the music of the pipes of peace.

4

دیدم چو جنگ پرده ناموس او درید

جز یسفک الدما و «خصیم مبین» نبود

جنگ عظیم نے اسکی مکاری کا پردہ چاک کر دیا تو میں نے دیکھا وہ صرف خون بہانے والا اور کھلم کھلا جھگڑالو ہی نکلا ۔ نوٹ: یہ نظم اقبال نے جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو کر لکھی تھی ۔ اقوام یورپ زبان سے دنیا کو تہذیب اور شائستگی کا درس دیتی ہے لیکن خود ان کا عمل درندوں سے بدتر ہے ۔

But when war tore the veil off its pretence, it stood exposed as man’s blood-thirsty enemy.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن حرف دلفروز که راز هست و راز نیست

من فاش گویمت که شنید از کجا شنید

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 50 - عشق

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ساقی بیار می که گل از غنچه رو نمود

چون بگذرد بهار و پشیمان شوی چه سود

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 156

شاخی برآمد از بر شاخ درخت تود

تاخی ز مشک و شاخ ز عنبر درخت عود

رودکی»ابیات پراکنده»شمارهٔ 52

آتش پریر گفت نهانی به گوش دود

کز من نمی‌شکیبد و با من خوش است عود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 863

خفته نمود دلبر گفتم ز باغ زود

شفتالوی بدزدم او خود نخفته بود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 873

رُهبان دَیْر را سببِ عاشقی چه بود؟

کاو روی راز دیر به خَلقان نمی‌نمود

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 345

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور