تہذیب
Civilization
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
انسان که رخ ز غازهٔ تهذیب بر فروخت
خاک سیاه خویش چو آئینه وانمود
انسان جس نے تہذیب کے غازے سے اپنا چہرہ چمکا رکھا ہے اپنی خباثت کو اجلا کر کے ظاہر کیا (اپنی سیاہ خاک کو آئینہ بنا رکھا ہے) ۔
Man, who has brightened up his face with civilization’s rouge, displays the dark dust which is he as if it were a mirror.
پوشید پنجه را ته دستانه حریر
افسونی قلم شد و تیغ از کمر گشود
جس نے اپنا ہاتھ ریشمی دستانے میں چھپا رکھا ہے قلم سے مسحور پر جانے والا بن گیا اور تلوار کمر سے کھول دی ۔
He hides his iron fist under a velvet glove. Charmed by the pen, he has laid off the sword.
این بوالهوس صنم کدهٔ صلح عام ساخت
رقصید گرد او به نواهای چنگ و عود
اس ابو الہوس نے صلح عام کا بت خانہ بنایا چنگ اور بربط کی دھنوں پر اسکے گرد ناچا ۔
This slave of lust once built an idol-temple of world peace, and danced around it to the music of the pipes of peace.
دیدم چو جنگ پرده ناموس او درید
جز یسفک الدما و «خصیم مبین» نبود
جنگ عظیم نے اسکی مکاری کا پردہ چاک کر دیا تو میں نے دیکھا وہ صرف خون بہانے والا اور کھلم کھلا جھگڑالو ہی نکلا ۔ نوٹ: یہ نظم اقبال نے جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں سے متاثر ہو کر لکھی تھی ۔ اقوام یورپ زبان سے دنیا کو تہذیب اور شائستگی کا درس دیتی ہے لیکن خود ان کا عمل درندوں سے بدتر ہے ۔
But when war tore the veil off its pretence, it stood exposed as man’s blood-thirsty enemy.
زمین
ساقی بیار می که گل از غنچه رو نمود
چون بگذرد بهار و پشیمان شوی چه سود
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 156
شاخی برآمد از بر شاخ درخت تود
تاخی ز مشک و شاخ ز عنبر درخت عود
رودکیابیات پراکندهشمارهٔ 52
آتش پریر گفت نهانی به گوش دود
کز من نمیشکیبد و با من خوش است عود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 863
خفته نمود دلبر گفتم ز باغ زود
شفتالوی بدزدم او خود نخفته بود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 873
رُهبان دَیْر را سببِ عاشقی چه بود؟
کاو روی راز دیر به خَلقان نمینمود
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 345
فارسی متن کا ماخذ: گنجور