تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —
Of my own being or not, I choose to hush —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 54
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو —
Tell the poet of vibrant verse from me —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 55
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) —
I am indifferent to your notions of right and wrong —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 56
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا —
O Sheikh of the sanctuary! You may not know —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 57
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —
Ye men of learning, I am in a maze, the mind this meaning cannot understand:
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 59
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں —
I am a hidden truth from head to toe, unseen —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 61
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
When you gazed upon a mere fragment of stone —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 63
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
Unfamiliar with loyalty, alien in its ways —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 64
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
Ask not of love or its enchanting guise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 65
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —
One day a withered rose thus spoke to me: ‘Our manifesting is a spark swift blown.’
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 67
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —
Our infinite world – of old Time’s ocean swallows it up (like fish).
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 68
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
I'm a companion to the birds in the garden's grace —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 69
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
Does this valley of flowers appear as it truly is? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 70
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
A girdled infidel, my brain adores idols it crafts —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 73
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
The cypress, a free-willed slave to the Divine —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 74
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
From one star to another, hundreds of worlds unfold —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 75
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
Do not bind your own steps with destiny's chain —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 76
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —
My heart to its own spell is prisoner; the world is lightened by its radiance fair.
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 77
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
In the instrument of my soul, the melody is from Your touch —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 78
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
Our restless breath is a wave from His endless sea —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 79
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
In Your heart, a solitary pain did twist and twine —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 80
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
Whom do you seek, why twist and turn in quest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 81
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ —
Leave childishness, and learn a better lore; abandon race, if thee a Muslim bore.
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 82
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
Neither Afghan, Turk, nor Tatar are we —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 83
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے —
There is a world concealed within my breast, heart in my dust, by passion’s grief possest.
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 84
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
One devoid of hidden yearnings (for his Lord) owns but a shell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 87
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
Forget the goal, be steadfast on the endless quest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 90
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
Come, O love, O the secret of our heart —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 91
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
Poetry summons pain and sorrow, yet the ache is sweet —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 92
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
I ride not on a steed of noble breed —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 93
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
If you desire life's perfection, listen well —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 94
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے —
‘A child of earth is Adam’, thou dost say. ‘Bond to the world of being and decay’;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 95
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے —
To the valiant heart, a lion stands as mild as a goat —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 96
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
Am I the wine, or am I the cup that holds? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 97
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
You say our bird (soul) is beneath a bodily snare confined —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 98
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
How kindles desire in the chambers of our hearts? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 99
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا —
When I was dead, and walked in Paradise, this heaven I could clearly see;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 100
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا —
Carve your own path with your axe's strike —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 103
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —
Come, behold nature's grandeur with keen eyes —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 105
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے —
Within the realm of water and clay, I've chosen retreat —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 106
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
No soul knows whence the Khudi first came —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 107
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ —
Heart, in the rosebud view Life’s mystery! Truth in contingent there unveiled is shewn;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 108
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے —
Allah's light spreads through gardens and the desert's expanse —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 109
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
From the soil of the narcissus field, a bud arose —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 110
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا —
The world, that findeth in itself no stay, sought in the street of yearning for a way:
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 111
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے —
Think not I grieve to die: The riddle of body and soul I have read plain.
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 112
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے —
The Rose and I one problem have to tell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 113
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں —
The self-sown tulip’s temper I know well —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 114
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
The world is a symphony of aspirations and desires —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 115
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے —
My heart, restless with longing's fervent plea —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 116