صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 105

رباعی شمارهٔ 105

آ، حسن فطرت پر نظر ڈال

Come, behold nature's grandeur with keen eyes

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ینی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —

تو ایک گوشے میں کیوں خلوت گزیں بیٹھا ہے۔

Come, behold nature's grandeur with keen eyes —

Why linger alone, where no companion lies?

2

اللہ تعالے نے تجھے چشم پاک بیں عطا فرمائی ہے —

تا کہ تو اللہ کے نور سے ذوق نگاہ پیدا کرے۔

God has bestowed upon you eyes, pristine —

To foster a taste for beauty seen through His light, serene.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بمنزل رهرو دل در نسازد

به آب و آتش و گل در نسازد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 104

اگلی نظم

میان آب و گل خلوت گزیدم

ز افلاطون و فارابی بریدم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 106

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

سزد گر نیکویی در من ببینی

که خودکام و جوان و نازنینی

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1813

به کوی می فروشان خرده بینی

بر آن آزاده می کرد آفرینی

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 968

سحرگه ره ‎روی در سرزمینی

همی گفت این معما با قرینی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 483

دلا تا نازکی و نازنینی

برو که نازنینان را نبینی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2657

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00