صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 77

رباعی شمارهٔ 77

میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے

The Tulip of Sinai - 77

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یراست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —

حالانکہ کائنات اس کے پرتو کی وجہ سے روشن ہے ۔

My heart to its own spell is prisoner; the world is lightened by its radiance fair.

2

میرے صبح و شام کے بارے میں سورج سے مت پوچھ —

کہ (وہ تو) میرے آج کے سامنے پرسوں کی بات ہے ۔

Seek not my dawn and even in a sun that ere my rising shone a many year.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بپای خود مزن زنجیر تقدیر

ته این گنبد گردان رهی هست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 76

اگلی نظم

نوا در ساز جان از زخمهٔ تو

چسان در جانی و از جان برونی

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 78

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چه رخساره که از بدر منیر است

لبش شکر فروش جوی شیر است

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 64

به ملک خویش عثمانی امیر است

دلش آگاه و چشم او بصیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 11 - ترک عثمانی

اگر دانا دل و صافی ضمیر است

فقیری با تهی دستی امیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»به یاران طریقت»بخش 2 - اگر دانا دل و صافی ضمیر است

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

که راکب خسته و بیمار و پیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 3 - سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00