صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور رسالت
  4. »بخش 3 - سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

بخش 3 - سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یراست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
1

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

که راکب خسته و بیمار و پیر است

صبح کے وقت میں نے اونٹنی سے کہا کہ آہستگی سے چل کیونکہ تیرا سوار کمزور ، بیمار اور بوڑھا ہے ۔

That dawn I asked naqah not to run quick, Its rider is feeble, too old and sick.

2

قدم مستانه زد چندان که گوئی

بپایش ریگ این صحرا حریر است

میں نے اسے جتنا کہا اس نے اس کے خلاف مستی بھرے قدم اٹھائے جیسے اس کے پاؤں اس صحرا کی ریت پر نہیں ریشمی کپڑے پر ہوں ۔

In a dancing prance move but she runs more, That sand to her feet is a silky floor.

بند 2
Toggle stanza 2
3

مهار ای ساربان او را نشاید

که جان او چو جان ما بصیر است

اے ساربان اس کو نکیل نہیں چاہیے کیونکہ ان کی جان ہی میرے جان کی طرح (جلوہ محبوب) کو دیکھنے والی ہے ۔

She needs no reins O I teamster hence! Like my own wits she has the same sense.

4

من از موج خرامش می شناسم

چو من اندر طلسم دل اسیر است

میں اسے اس کی رفتار کی موج سے پہچان رہا ہوں ۔ کہ میری طرح وہ بھی دل کے جادو کی قیدی ہے ۔

From its wavelike trot a plea I would form, Like me she is captive of heart’s own charm.

بند 3
Toggle stanza 3
5

نم اشک است در چشم سیاهش

دلم سوزد ز آه صبحگاهش

اس کی اونٹنی کی سیاہ روشن آنکھوں میں آنسووَں کی نمی ہے ۔ میرا دل اس کی صبح کے وقت کی آہ سے جلتا ہے ۔

Yet tears moist vivid in jet black eyes, My heart thus burns from his morning sighs.

6

همان می کو ضمیرم را برافروخت

پیاپی ریزد از موج نگاهش

وہی شراب (عشق رسول کی شراب) جس سے میرا ضمیر روشن ہے ۔ اس اونٹنی کی نگاہ کی موج سے مسلسل گر رہی ہے ۔

That burnt my conscience was the sole wine, Flowing with his gaze like wavelets fine.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گناه عشق و مستی عام کردند

دلیل پختگان را خام کردند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 2 - گناه عشق و مستی عام کردند

اگلی نظم

چه خوش صحرا که در وی کاروانها

درودی خواند و محمل براند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 4 - چه خوش صحرا که در وی کاروانها

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چه رخساره که از بدر منیر است

لبش شکر فروش جوی شیر است

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 64

به ملک خویش عثمانی امیر است

دلش آگاه و چشم او بصیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور ملت»بخش 11 - ترک عثمانی

اگر دانا دل و صافی ضمیر است

فقیری با تهی دستی امیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»به یاران طریقت»بخش 2 - اگر دانا دل و صافی ضمیر است

دل من در طلسم خود اسیر است

جهان از پرتو او تاب گیر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 77