شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
چه خوش صحرا که در وی کاروانها
درودی خواند و محمل براند
کیا اچھا صحرا ہے جس میں قافلے والے درود پڑھتے جاتے ہیں اور کجاوے ہانکتے جاتے ہیں ۔
How lucky are deserts caravan lines, They bless the Prophet driving litters fine.
به ریگ گرم او آور سجودی
جبین را سوز تا داغی بماند
اس صحرا کی گرم ریت پر سجدے بجا لا ۔ پیشانی کو جلا تاکہ نشان رہ جائے ۔
Cast thy kowtows on hot sand grains, Burn thy forehead to form a stain.
چه خوش صحرا که شامش صبح خند است
شبش کوتاه و روز او بلند است
صحرا کتنا اچھا ہے کیونکہ اس کی شام صبح کی طرح مسکراتی ہے اس کی رات چھوٹی اور اس کا دن بڑا ہے ۔
Hail the desert whose eve is morning gay, Whose nights are shorter and longer the day.
قدم ای راهرو آهسته تر نه
چو ما هر ذره او دردمند است
اے راہی! بڑی نرمی سے قدم رکھ کیونکہ اس کا (صحرا کا) ہر ذرہ میری طرح دردمند (عاشق ) ہے ۔
Place thy steps with a gentle gait, That sands like me has a ruthful trait.