صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور رسالت
  4. »بخش 4 - چه خوش صحرا که در وی کاروانها

بخش 4 - چه خوش صحرا که در وی کاروانها

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
1

چه خوش صحرا که در وی کاروانها

درودی خواند و محمل براند

کیا اچھا صحرا ہے جس میں قافلے والے درود پڑھتے جاتے ہیں اور کجاوے ہانکتے جاتے ہیں ۔

How lucky are deserts caravan lines, They bless the Prophet driving litters fine.

2

به ریگ گرم او آور سجودی

جبین را سوز تا داغی بماند

اس صحرا کی گرم ریت پر سجدے بجا لا ۔ پیشانی کو جلا تاکہ نشان رہ جائے ۔

Cast thy kowtows on hot sand grains, Burn thy forehead to form a stain.

بند 2
Toggle stanza 2
3

چه خوش صحرا که شامش صبح خند است

شبش کوتاه و روز او بلند است

صحرا کتنا اچھا ہے کیونکہ اس کی شام صبح کی طرح مسکراتی ہے اس کی رات چھوٹی اور اس کا دن بڑا ہے ۔

Hail the desert whose eve is morning gay, Whose nights are shorter and longer the day.

4

قدم ای راهرو آهسته تر نه

چو ما هر ذره او دردمند است

اے راہی! بڑی نرمی سے قدم رکھ کیونکہ اس کا (صحرا کا) ہر ذرہ میری طرح دردمند (عاشق ) ہے ۔

Place thy steps with a gentle gait, That sands like me has a ruthful trait.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

که راکب خسته و بیمار و پیر است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 3 - سحر با ناقه گفتم نرم تر رو

اگلی نظم

امیر کاروان آن اعجمی کیست؟

سرود او به آهنگ عرب نیست

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 5 - امیر کاروان آن اعجمی کیست؟

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

فرنگی رمز رزاقی بداند

به این بخشد از آن وا می‌ستاند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»به یاران طریقت»بخش 5 - فرنگی رمز رزاقی بداند