صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور رسالت
  4. »بخش 5 - امیر کاروان آن اعجمی کیست؟

بخش 5 - امیر کاروان آن اعجمی کیست؟

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
1

امیر کاروان آن اعجمی کیست؟

سرود او به آهنگ عرب نیست

اے قافلے کے سردار وہ عجمی کون ہے اس کے نغمے کی لے عرب کے نغمے سے الگ ہے ۔

Who’s that Ajmi as head of caravan His tone varies from tune of desert’s man.

2

زند آن نغمه کز سیرابی او

خنک دل در بیابانی توان زیست

وہ ایسا نغمہ گا رہا ہے جس کی سیرابی سے اس کے دل میں ٹھنڈک محسوس ہو رہی ہے ، وہ شاعر خود اس بیابان میں زندگی بسر کر سکتا ہے ۔

His tone up a charming, lilting song, That a cold heart feels more young and strong.

بند 2
Toggle stanza 2
3

مقام عشق و مستی منزل اوست

چه آتش ها که در آب و گل اوست

عشق و مستی کا مقام اس عجمی کی منزل ہے ۔ اس کی مٹی اور پانی میں کیسی آگ پائی جاتی ہے ۔

A place in love and raptures was his aim, Such fires were lit up in his muddy frame.

4

نوای او به هر دل سازگار است

که در هر سینه قاشی از دل اوست

اس کے نغمے کی صدا ہر دل کے لیے سازگار ہے ۔ کیونکہ ہر سینے میں اس کے دل ایک قاش لگی ہوئی ہے ۔

His cries chime in with every one’s heart, That every one shares his heart’s good part.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چه خوش صحرا که در وی کاروانها

درودی خواند و محمل براند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 4 - چه خوش صحرا که در وی کاروانها

اگلی نظم

غم پنهان که بی گفتن عیان است

چو آید بر زبان یک داستان است

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 6 - غم پنهان که بی گفتن عیان است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست

ولی دانم نوای زندگی چیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 138