شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
گناه عشق و مستی عام کردند
دلیل پختگان را خام کردند
عشق و مستی کے گناہ کو عام کردیا ۔ پختہ دلیلوں (فلسفیوں کے طریقہ کار کو ) جھٹلا دیا گیا ۔
To love’an rapture sins gave a common sense, And made ripes wisdom a raws logic hence.
به آهنگ حجازی می سرایم
«نخستین باده کاندر جام کردند»
میں حجازی سر کے ساتھ گا رہا ہوں ۔ سب سے پہلے جو شراب پیالے میں ڈالی گئی وہ ساقی کی مست آنکھ سے ادھار لی گئی ۔
I sing songs hey! to Makkan tunes gay, Since wine in cup was poured on the first day.
چه پرسی از مقامات نوایم
ندیمان کم شناسند از کجایم
میری شاعری کے مقامات کے بارے میں کیا پوچھ گچھ کرتا ہے ۔ میرے دوست نہیں پہچانتے کہ میں کہاں سے ہوں
You ask the spots where I played my jazz there, My friends know little I came up from where.
گشادم رخت خود را اندرین دشت
که اندر خلوتش تنها سرایم
میں نے اپنے مال و اسباب کو صحرا میں کھول دیا تاکہ میں اس کی تنہائی میں اکیلا ہی گیت گاتا رہوں ۔
I opened my baggage in desert’s heat, Where I am singing in his lone retreat.
زمین