شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
«الا یا خیمگی خیمه فروهل
که پیشاهنگ بیرون شد ز منزل»
خبردار اے خیمہ میں بیٹھنے والے خیمہ چھوڑ دے کیونکہ قافلے کی رہنمائی کرنے والا منزل سے آگے نکل چکا ہے ۔
O, tent chamberlain! leave the tent hark The guide has gone beyond the base park.
خرد از راندن محمل فرو ماند
زمام خویش دادم در کف دل
عقل کجاوے یعنی جسم کو ہانکنے (سفر کے لیے) سے عاجز آ چکی ہے ۔ میں نے اس کی مہار دل کی ہتھیلی میں تھما دی ہے ۔
To drive the litters now flops the‐wan‐brain, I let the heart hence to take up the reins.
نگاهی داشتم بر جوهر دل
تپیدم ، آرمیدم در بر دل
میں نے دل کے جوہر (جذبہ عشق) پر نظر رکھی ۔ میں (عشق کی آگ میں ) تڑپا اور میں نے دل کے پہلو میں ہی آرام کیا ۔
I keep my eyes penchant on hearts essence, Though writhing I am resting on heart’s fence.
رمیدم از هوای قریه و شهر
به باد دشت وا کردم در دل
میں شہر اور گاؤں کی ہوا سے باہر آ گیا ۔ میں نے دل کے دروازے کو صحرا کی ہوا (شہر مدینہ کی روانگی) کے لیے کھول دیا ۔
From cities and bergs I liked to flee, To the deserts breeze I look up with glee.
ندانم دل شهید جلوه کیست
نصیب او قرار یک نفس نیست
میں نہیں جانتا کہ میرا دل کس کے جلوے کی گواہی دیتا ہے کہ اس کی قسمت میں ایک پل کا سکون نہیں ہے ۔
I know not who dazzled and killed this heart, No rest since then is destined to this part.
به صحرا بردمش افسرده تر گشت
کنار آب جوئی زار بگریست
میں دل کو صحرا میں لے گیا اور زیادہ افسردہ ہو ا ۔ میں اسے نہر کے کنارے لے آیا یہاں بھی وہ بہت زیادہ رویا ہے ۔
I took him to desert which pained him more. On a brook side too he be wept to the core.
مپرس از کاروان جلوه مستان
ز اسباب جهان برکنده دستان
قافلے سے نہ پوچھو وہ محبوب کے جلوے میں مست ہیں ۔ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے اسباب سے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔
Ask not of lustre drunk’s caravan scene, They have left the world whole and all its means.
بجان شان ز آواز جرس شور
چو از موج نسیمی در نیستان
قافلے کی گھنٹی کی آواز سے ان کی جان میں شدت پیدا ہوتی ہے ۔ جیسے نسیم کے جھونکے سے نرکل یا بانسوں کی جنگل میں شور پیدا ہو جاتا ہے ۔
By God my feelings rouse from peals of bell, As if the wind booms through canes wood deli.
به این پیری ره یثرب گرفتم
نوا خوان از سرود عاشقانه
میں نے اس بڑھاپے میں عاشقانہ نغمے کی نوجوانی سے مدینہ منورہ کا راستہ اختیار کیا ۔
I cherish for Yathrib though I am old, I am moved to singing in love’s sweet hold.
چو آن مرغی که در صحرا سر شام
گشاید پر به فکر آشیانه
اس پرندے کی طرح جو صحرا میں شام کے وقت اپنے گھونسلے میں جانے کی فکر میں پرواز کے لیے پر کھولتا ہے ۔
As the birds at dusk would fly back to nest, I cherish to fly for the desert’s quest.
زمین
زهی زلفت شکسته نرخ سنبل
گلستان رخت خندیده بر گل
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1224
مسلمانان برفت از دست من دل
چو دیدم آنچنان شکل و شمایل
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1225
اتتنی من لدی نجم الافاضل
صحیفة احتوت کل الفضائل
جامیدیوان اشعارقصایدشمارهٔ 21
برون آی از نقاب غنچه ای گل
که از شوق جمالت سوخت بلبل
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 558
شتربانا مبند امروز محمل
مرا باری چنین مپسند بر دل
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 563
چه نیکو گفت ابراهیم ادهم
چو ترک مُلک و دولت کرد و خاتم
سعدیمواعظمثنویاتشمارهٔ 6
یکی را از بزرگان بادی مخالف در شکم پیچیدن گرفت و طاقتِ ضبطِ آن نداشت و بی اختیار از او صادر شد. گفت ای دوستان! مرا در آنچه کردم اختیاری نبود و بَزَهی بر من ننوشتند و راحتی به وجودِ من رسید. شما هم به کَرَم معذور دارید.
شکم زندانِ باد است ای خردمند
سعدیگلستانباب دوم در اخلاق درویشانحکایت شمارهٔ 30
چه خواهد اهل معنی زان عبارت
که سوی چشم و لب دارد اشارت
شیخ محمود شبستریگلشن رازبخش 49 - سوال از معانی اصطلاحات شاعرانهٔ عارفان
مبند ای دل، بجز در یار خود دل
امید از هر که داری جمله بگسل
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 153
پدر بگشاد مُهر از حقّهٔ لعل
دُر افشان گشت و کرد این قصّه را نقل
عطارالهی نامهبخش هجدهمجواب پدر