صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »ارمغان حجاز
  3. »حضور رسالت
  4. »بخش 1 - الا یا خیمگی خیمه فروهل

بخش 1 - الا یا خیمگی خیمه فروهل

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ل

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 10

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
1

«الا یا خیمگی خیمه فروهل

که پیشاهنگ بیرون شد ز منزل»

خبردار اے خیمہ میں بیٹھنے والے خیمہ چھوڑ دے کیونکہ قافلے کی رہنمائی کرنے والا منزل سے آگے نکل چکا ہے ۔

O, tent chamberlain! leave the tent hark The guide has gone beyond the base park.

2

خرد از راندن محمل فرو ماند

زمام خویش دادم در کف دل

عقل کجاوے یعنی جسم کو ہانکنے (سفر کے لیے) سے عاجز آ چکی ہے ۔ میں نے اس کی مہار دل کی ہتھیلی میں تھما دی ہے ۔

To drive the litters now flops the‐wan‐brain, I let the heart hence to take up the reins.

بند 2
Toggle stanza 2
3

نگاهی داشتم بر جوهر دل

تپیدم ، آرمیدم در بر دل

میں نے دل کے جوہر (جذبہ عشق) پر نظر رکھی ۔ میں (عشق کی آگ میں ) تڑپا اور میں نے دل کے پہلو میں ہی آرام کیا ۔

I keep my eyes penchant on hearts essence, Though writhing I am resting on heart’s fence.

4

رمیدم از هوای قریه و شهر

به باد دشت وا کردم در دل

میں شہر اور گاؤں کی ہوا سے باہر آ گیا ۔ میں نے دل کے دروازے کو صحرا کی ہوا (شہر مدینہ کی روانگی) کے لیے کھول دیا ۔

From cities and bergs I liked to flee, To the deserts breeze I look up with glee.

بند 3
Toggle stanza 3
5

ندانم دل شهید جلوه کیست

نصیب او قرار یک نفس نیست

میں نہیں جانتا کہ میرا دل کس کے جلوے کی گواہی دیتا ہے کہ اس کی قسمت میں ایک پل کا سکون نہیں ہے ۔

I know not who dazzled and killed this heart, No rest since then is destined to this part.

6

به صحرا بردمش افسرده تر گشت

کنار آب جوئی زار بگریست

میں دل کو صحرا میں لے گیا اور زیادہ افسردہ ہو ا ۔ میں اسے نہر کے کنارے لے آیا یہاں بھی وہ بہت زیادہ رویا ہے ۔

I took him to desert which pained him more. On a brook side too he be wept to the core.

بند 4
Toggle stanza 4
7

مپرس از کاروان جلوه مستان

ز اسباب جهان برکنده دستان

قافلے سے نہ پوچھو وہ محبوب کے جلوے میں مست ہیں ۔ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے اسباب سے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔

Ask not of lustre drunk’s caravan scene, They have left the world whole and all its means.

8

بجان شان ز آواز جرس شور

چو از موج نسیمی در نیستان

قافلے کی گھنٹی کی آواز سے ان کی جان میں شدت پیدا ہوتی ہے ۔ جیسے نسیم کے جھونکے سے نرکل یا بانسوں کی جنگل میں شور پیدا ہو جاتا ہے ۔

By God my feelings rouse from peals of bell, As if the wind booms through canes wood deli.

بند 5
Toggle stanza 5
9

به این پیری ره یثرب گرفتم

نوا خوان از سرود عاشقانه

میں نے اس بڑھاپے میں عاشقانہ نغمے کی نوجوانی سے مدینہ منورہ کا راستہ اختیار کیا ۔

I cherish for Yathrib though I am old, I am moved to singing in love’s sweet hold.

10

چو آن مرغی که در صحرا سر شام

گشاید پر به فکر آشیانه

اس پرندے کی طرح جو صحرا میں شام کے وقت اپنے گھونسلے میں جانے کی فکر میں پرواز کے لیے پر کھولتا ہے ۔

As the birds at dusk would fly back to nest, I cherish to fly for the desert’s quest.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ادبگاهی‌ست زیر آسمان از عرش نازک‌تر

نفس گم‌کرده می‌آید جنید و بایزید

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»ادبگاهی‌ست زیر آسمان از عرش نازک‌تر

اگلی نظم

گناه عشق و مستی عام کردند

دلیل پختگان را خام کردند

علامہ اقبال»ارمغان حجاز»حضور رسالت»بخش 2 - گناه عشق و مستی عام کردند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

زهی زلفت شکسته نرخ سنبل

گلستان رخت خندیده بر گل

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1224

مسلمانان برفت از دست من دل

چو دیدم آنچنان شکل و شمایل

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1225

اتتنی من لدی نجم الافاضل

صحیفة احتوت کل الفضائل

جامی»دیوان اشعار»قصاید»شمارهٔ 21

برون آی از نقاب غنچه ای گل

که از شوق جمالت سوخت بلبل

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 558

شتربانا مبند امروز محمل

مرا باری چنین مپسند بر دل

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 563

چه نیکو گفت ابراهیم ادهم

چو ترک مُلک و دولت کرد و خاتم

سعدی»مواعظ»مثنویات»شمارهٔ 6

یکی را از بزرگان بادی مخالف در شکم پیچیدن گرفت و طاقتِ ضبطِ آن نداشت و بی اختیار از او صادر شد. گفت ای دوستان! مرا در آنچه کردم اختیاری نبود و بَزَهی بر من ننوشتند و راحتی به وجودِ من رسید. شما هم به کَرَم معذور دارید.

شکم زندانِ باد است ای خردمند

سعدی»گلستان»باب دوم در اخلاق درویشان»حکایت شمارهٔ 30

چه خواهد اهل معنی زان عبارت

که سوی چشم و لب دارد اشارت

شیخ محمود شبستری»گلشن راز»بخش 49 - سوال از معانی اصطلاحات شاعرانهٔ عارفان

مبند ای دل، بجز در یار خود دل

امید از هر که داری جمله بگسل

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 153

پدر بگشاد مُهر از حقّهٔ لعل

دُر افشان گشت و کرد این قصّه را نقل

عطار»الهی نامه»بخش هجدهم»جواب پدر