صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 2

غزل شمارهٔ 2

غزل نمبر2

Ghazal No. 2

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ران

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

حلقه بستند سر تربت من نوحه کران

دلبران زهره وشان گل برنان سیم بران

میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔

Around my grave atood in a ring a bevy of fair mourners, all comely, winsome, lily-white.

2

در چمن قافلهٔ لاله و گل رخت گشود

از کجا آمده اند این همه خونین جگران

لالہ و گل کے قافلے نے چمن میں ڈیرا ڈالا یہ سب خونیں جگر والے کہاں سے آئے ہیں ۔

The caravan of roses and of tulips has alighted in the garden. O wherefrom come so many things with bleeding hearts?

3

ایکه در مدرسه جوئی ادب و دانش و ذوق

نخرد باده کس از کارگه شیشه گران

اے کہ تو مدرسے میں ادب اور دانش میں مستی ڈھونڈ رہا ہے ۔ شیشہ گروں کی دکان سے کوئی شراب نہیں خریدتا ۔ اے مخاطب تو مدرسہ میں ادب و دانش و ذوق ان تین خوبیوں کو تلاش کر رہا ہے یہ تیری نادانی ہے ۔ شیشہ گر کی دکان سے جام اور صراحی تو مل سکتی ہے لیکن شراب نہیں ۔

You seek good manners, learning, taste in the schoolroom. But no one buys wine from a glassware factory.

4

خرد افزود مرا درس حکیمان فرنگ

سینه افروخت مرا صحبت صاحبنظران

یورپ کے فلسفیوں کی تعلیمات نے اگرچہ میری سمجھ بوجھ بڑھا ئی لیکن نظر والوں کی صحبت نے میرا سینہ روشن کیا ۔

The teaching of the West’s philosophers increased my wisdom’s fund. The company of seers lit up my being’s very core.

5

بر کش آن نغمه که سرمایه آب و گل تست

ای ز خود رفته تهی شو ز نوای دگران

وہ نغمہ پیدا کر جو تیری مٹی کا سرمایہ ہے ۔ اے اپنے آپ سے بے سدھ دوسروں کا راگ الاپنا چھوڑ دے ۔ (دوسروں کی تقلید مت کر اپنی خودی میں ڈوب کر اپنی معرفت حاصل کر ۔ )

Bring out the music which is in your nature’s make-up. O self-oblivious man, cast out of your head others’ tunes.

6

کس ندانست که من نیز بهائی دارم

آن متاعم که شود دست زد بی بصران

کسی نے نہ جانا کہ میں بھی کوئی قیمت رکھتا ہوں ۔ افسوس! میری قوم نے مجھے نہیں پہچانا ۔ میں ایسی دولت ہوں جو اندھوں کے ہاتھ لگ جائے ۔

No one has realized that I too have some worth. I am a precious object fallen into the hands of blind men.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بهار تا به گلستان کشید بزم سرود

نوای بلبل شوریده چشم غنچه گشود

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 1

اگلی نظم

می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر

رست از یک بند تا افتاد در بندی دگر

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 3

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای شه تنگ قبایان مه زرین کمران

سرور کج کلهان خسرو شیرین پسران

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 721

ویحک ای پردهٔ پرده‌در در ما نگران

بیش از این پردهٔ ما پیش هر ابله مدران

سنایی»دیوان اشعار»قصاید»قصیدهٔ شمارهٔ 137 - معروفی بود زن سلیطه‌ای داشت او را به قاضی برده بود و رنج می‌نمود در حق وی گوید

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور