غزل نمبر6
Ghazal No. 6
خیز و نقاب بر گشا پردگیان ساز را
نغمهٔ تازه یاد ده مرغ نوا طراز را
اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔
Arise and waken notes aslumber in the organ’s keys. Teach singing birds fresh tunes.
جاده ز خون رهروان تختهٔ لاله در بهار
ناز که راه میزند قافله نیاز را
رہرووں کے خون سے راستہ یوں بن چکا ہے جیسے موسم بہار میں گل لالہ کی کیاری، یہ کس کے ناز نے قافلہ نیاز پر دھاوا بول دیا ہے ۔ نوٹ: دنیا میں جس قدر عاشقان حق گزرے ہیں ان کو مصائب سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔
The path is like a tulip-bed with passers-bys’ blood-drops. Who is the one whose proud might has waylaid the caravan of humble Love?
دیدهٔ خوابناک او گر به چمن گشوده ئی
رخصت یک نظر بده نرگس نیم باز را
جو تو نے اس کی سوئی ہوئی آنکھ کو چمن میں کھول دیا ہے تو ادھ کھلی نرگس کو ایک نگاہ کی رخصت بھی دیدے ۔
Since You have opened to the garden its sleepy eye, give the narcissus time sufficient for a glance.
حرف نگفتهٔ شما بر لب کودکان رسید
از من بی زبان بگو خلوتیان راز را
آپ کی ان کہی بات بچوں تک کے ہونٹوں پر آ گئی ہے ۔ مجھ بے زبان کی طرف سے یہ گوشہ گیر عارفوں سے کہنا کہ جن اسرار و رموز کو آپ حضرات نے مخفی رکھا تھا میں نے شاعری کے ذریعے عوام تک پہنچا دیا ہے ۔
To inmates of the inner sanctuary say this from me, tongueless as I am: ‘Words never uttered by you are on little children’s lips.’
سجدهٔ تو بر آورد از دل کافران خروش
ایکه دراز تر کنی پیش کسان نماز را
تیرا سجدہ دیکھ کر کافروں کے دل سے بھی دھائی (احتجاج) نکلتی ہے ۔ اے تو کہ لوگوں کے سامنے نماز کو اور لمبا کر دیتا ہے (اس شعر میں اقبال نے ریاکار سے خطاب کیا ہے کہ تو لوگوں کے سامنے دکھاوے کی نماز پڑھتا ہے ، کافر بھی تیری نماز کو دیکھ کر تیری ریاکاری پر افسوس کرتے ہیں ) ۔
O you who lengthen out your prayers in front of other men, when you bow your head on the ground, the unbelievers watching fume indignantly.
گرچه متاع عشق را عقل بهای کم نهد
من ندهم به تخت جم آه جگر گداز را
اگرچہ عقل متاع عشق کی قیمت بہت کم لگاتی ہے مگر میں جگر پگھلانے والی آہ کو تخت جمشید کے مول بھی نہ دوں ۔
Although the intellect rates Love not very high, I would not give a lover’s anguished sigh for Jamshid’s throne.
برهمنی به غزنوی گفت کرامتم نگر
تو که صنم شکسته ئی بنده شدی ایاز را
ایک برہمن نے محمود غزنوی سے کہا میری کرامت دیکھ کہ تو نے بتوں کو توڑا مگر خود ایاز کا بندہ ہو گیا (ایاز کا پرستار ہو گیا) ۔
A Brahmin said to Ghaznavi: ‘Look at my magic powers; you who broke idols have become yourself Ayaz’s slave.’
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور