تراجم
یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔
Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 8
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔
I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 9
بہار کی ہوا نے گلستان کے اندر میخانہ بنا دیا ہے ۔ موسم بہار میں گلستان کو دیکھو تو میخانہ معلوم ہوتا ہے ۔ غنچے سے صراحی بن رہی ہے پھول کو پیالہ بنا رہی ہے یعنی غنچہ سبو ہے اور گل اس کا پیمانہ ۔
The breeze of spring makes of the garden a wine-tavern. It casts buds into jar-shapes, and makes of flowers cups.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 10
ہماری طرف سے اس ظالم محبوب کو سلام کہنا کہ تو نے ایک نگاہ سے تمنا کا پورا شہر پھونک ڈالا ۔
Convey my salutation to that fire-eating Turk who set aflame with one glance a city full of longing.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 11
تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔
You have made every thorn prick us and know our tale. You took us to the wilderness of madness, and let everybody know.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 12
مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔
Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 13
شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔
Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 14
تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔
I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 15
زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔
Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 16
آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے
From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 17
موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔
A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 18
پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔
A hundred nights of wailing, a hundred mornings of travail, a hundred fire-emitting sighs: The product? One poignant verse.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 19
جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔
Let surma brighten once again your magic-working eyes, and let my frenzied urge to sing about them be intensified.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 20
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔
The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 21
میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔
O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 22
ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔
The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 23
عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔
A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 24
تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔
There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 25
یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔
This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 26
لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 27
میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔
I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 28
ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔
In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 29
ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔
Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 30
سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔
The fervent quality of verse comes from the heart’s ecstatic cry. This candle is alight thanks to the heart, which is its moth.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 31
پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔
The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 32
نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔
You cannot fit into the Harem, nor into the idol-house. But O how eagerly you come to those who seek you eagerly.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 33
عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔
The animation in the idol-temple of ‘Ajam does not match the great ardour of my heart, for with one glance Muhammad of Arabia has conquered the Hijaz that is in me.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 34
آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔
Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 35
عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔
No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 36
کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔
There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 37
(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔
Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 38
ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔
We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 39
میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔
O may Arabia become a tulip-field, thanks to my tears of blood. May Ajam, which has lost its fragrance, find a new spring in my breath!
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 40
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔
Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 41
نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔
There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 42
اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔
Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 43
میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔
My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 44
تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔
O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 45
نقشِ فرنگ ۔ پیام
A Message to the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 1 - پیام
The League of Nations
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 2 - جمعیت الاقوام
Schopenhauer and Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 3 - شوپنهاور و نیچه
Philosophy and Politics
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 4 - فلسفه و سیاست
An Assemblage in the Other World
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 5 - صحبت رفتگان (در عالم بالا)
Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 6 - نیچه
Einstein
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 7 - حکیم اینشتین
Byron
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 8 - بایرن
Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 9 - نیچه
Jalal and Hegel
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 10 - جلال و هگل
Petöfi
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 11 - پتوفی
مرد مزدور
Dialogue Between Auguste Comte and the Labourer
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور