صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی
  2. »پیام مشرق

تراجم

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

213نظمیں

تراجم والی نظمیں

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

  1. زندہ رود
  2. »پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی
  3. »پیام مشرق

غزل شمارهٔ 8–بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است

آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔

Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 8

اردوEn

غزل شمارهٔ 9–صورت نپرستم من بتخانه شکستم من

میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔

I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 9

اردوEn

غزل شمارهٔ 10–هوای فرودین در گلستان میخانه می‌سازد

بہار کی ہوا نے گلستان کے اندر میخانہ بنا دیا ہے ۔ موسم بہار میں گلستان کو دیکھو تو میخانہ معلوم ہوتا ہے ۔ غنچے سے صراحی بن رہی ہے پھول کو پیالہ بنا رہی ہے یعنی غنچہ سبو ہے اور گل اس کا پیمانہ ۔

The breeze of spring makes of the garden a wine-tavern. It casts buds into jar-shapes, and makes of flowers cups.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 10

اردوEn

غزل شمارهٔ 11–از ما بگو سلامی آن ترک تند خو را

ہماری طرف سے اس ظالم محبوب کو سلام کہنا کہ تو نے ایک نگاہ سے تمنا کا پورا شہر پھونک ڈالا ۔

Convey my salutation to that fire-eating Turk who set aflame with one glance a city full of longing.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 11

اردوEn

غزل شمارهٔ 12–آشنا هر خار را از قصهٔ ما ساختی

تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔

You have made every thorn prick us and know our tale. You took us to the wilderness of madness, and let everybody know.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 12

اردوEn

غزل شمارهٔ 13–خوش آنکه رخت خرد را به شعله‌ای می سوخت

مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔

Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 13

اردوEn

غزل شمارهٔ 14–بیار باده که گردون بکام ما گردید

شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔

Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 14

اردوEn

غزل شمارهٔ 15–تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔

I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 15

اردوEn

غزل شمارهٔ 16–دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز

زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔

Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 16

اردوEn

غزل شمارهٔ 17–ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے

From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 17

اردوEn

غزل شمارهٔ 18–موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔

A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 18

اردوEn

غزل شمارهٔ 19–صد نالهٔ شبگیری صد صبح بلا خیزی

پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔

A hundred nights of wailing, a hundred mornings of travail, a hundred fire-emitting sighs: The product? One poignant verse.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 19

اردوEn

غزل شمارهٔ 20–باز به سرمه تاب ده چشم کرشمه زای را

جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔

Let surma brighten once again your magic-working eyes, and let my frenzied urge to sing about them be intensified.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 20

اردوEn

غزل شمارهٔ 21–فریب کشمکش عقل دیدنی دارد

عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔

The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 21

اردوEn

غزل شمارهٔ 22–حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم

میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔

O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 22

اردوEn

غزل شمارهٔ 23–به شاخ زندگی ما نمی ز تشنه لبی است

ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔

The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 23

اردوEn

غزل شمارهٔ 24–فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 24

اردوEn

غزل شمارهٔ 25–بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔

There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 25

اردوEn

غزل شمارهٔ 26–این گنبد مینائی این پستی و بالائی

یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔

This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 26

اردوEn

غزل شمارهٔ 27–هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 27

اردوEn

غزل شمارهٔ 28–دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 28

اردوEn

غزل شمارهٔ 29–در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔

In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 29

اردوEn

غزل شمارهٔ 30–گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔

Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 30

اردوEn

غزل شمارهٔ 31–سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است

سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔

The fervent quality of verse comes from the heart’s ecstatic cry. This candle is alight thanks to the heart, which is its moth.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 31

اردوEn

غزل شمارهٔ 32–سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند

پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔

The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 32

اردوEn

غزل شمارهٔ 33–نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه می‌آیی

نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔

You cannot fit into the Harem, nor into the idol-house. But O how eagerly you come to those who seek you eagerly.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 33

اردوEn

غزل شمارهٔ 34–تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من

عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔

The animation in the idol-temple of ‘Ajam does not match the great ardour of my heart, for with one glance Muhammad of Arabia has conquered the Hijaz that is in me.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 34

اردوEn

غزل شمارهٔ 35–مثل آئینه مشو محو جمال دگران

آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔

Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 35

اردوEnآڈیو

غزل شمارهٔ 36–جهان عشق نه میری نه سروری داند

عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔

No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 36

اردوEn

غزل شمارهٔ 37–خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست

کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔

There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 37

اردوEn

غزل شمارهٔ 38–بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است

(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔

Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 38

اردوEn

غزل شمارهٔ 39–خاکیم و تند سیر مثال ستاره‌ایم

ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔

We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 39

اردوEn

غزل شمارهٔ 40–عرب از سرشک خونم همه لاله‌زار بادا

میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔

O may Arabia become a tulip-field, thanks to my tears of blood. May Ajam, which has lost its fragrance, find a new spring in my breath!

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 40

اردوEn

غزل شمارهٔ 41–نظر تو همه تقصیر و خرد کوتاهی

تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔

Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 41

اردوEn

غزل شمارهٔ 42–سر خوش از بادهٔ تو خم شکنی نیست که نیست

نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔

There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 42

اردوEn

غزل شمارهٔ 43–اگرچه زیب سرش افسر و کلاهی نیست

اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔

Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 43

اردوEn

غزل شمارهٔ 44–شعله در آغوش دارد عشق بی پروای من

میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔

My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 44

اردوEn

غزل شمارهٔ 45–بتان تازه تراشیده‌ای دریغ از تو

تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔

O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 45

اردوEn

بخش 1–پیام

نقشِ فرنگ ۔ پیام

A Message to the West

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 1 - پیام

اردوEn

بخش 2–جمعیت الاقوام

The League of Nations

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 2 - جمعیت الاقوام

اردوEn

بخش 3–شوپنهاور و نیچه

Schopenhauer and Nietzsche

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

اردوEn

بخش 4–فلسفه و سیاست

Philosophy and Politics

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 4 - فلسفه و سیاست

اردوEn

بخش 5–صحبت رفتگان (در عالم بالا)

An Assemblage in the Other World

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 5 - صحبت رفتگان (در عالم بالا)

اردوEn

بخش 6–نیچه

Nietzsche

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 6 - نیچه

اردوEn

بخش 7–حکیم اینشتین

Einstein

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 7 - حکیم اینشتین

اردوEn

بخش 8–بایرن

Byron

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 8 - بایرن

اردوEn

بخش 9–نیچه

Nietzsche

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 9 - نیچه

اردوEn

بخش 10–جلال و هگل

Jalal and Hegel

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 10 - جلال و هگل

اردوEn

بخش 11–پتوفی

Petöfi

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 11 - پتوفی

اردوEn

بخش 12–محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

مرد مزدور

Dialogue Between Auguste Comte and the Labourer

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

اردوEn
  1. 1
  2. 2
  3. 3
  4. 4
  5. 5
پچھلا صفحہاگلا صفحہ