صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 36

غزل شمارهٔ 36

غزل نمبر36

Ghazal No. 36

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ریداند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

جهان عشق نه میری نه سروری داند

همین بس است که آئین چاکری داند

عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔

No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.

2

نه هر که طوف بتی کرد و بست زناری

صنم پرستی و آداب کافری داند

ہر وہ شخص جس نے کسی بت کے گرد پھیرا کر لیا اور جنیو کس لی (ضروری نہیں کہ) صنم پرستی اور کافری کے آداب بھی جانتا ہو (کافری میں بھی کچھ قوانین ہیں جن کی اطاعت لازمی ہے) ۔

Not everyone who walks around an idol and ties the sacred thread around his neck can claim to know the rules of idol-worship and of unbelief.

3

هزار خیبر و صد گونه اژدر است اینجا

نه هر که نان جوین خورد حیدری داند

یہاں ہزارون خیبر ہیں اور سینکڑوں طرح طرح کے اژدھے ہیں یہ نہیں کہ جس نے جو کی روٹی کھا لی وہ علی بننا بھی جان لے (اس کے لیے عشق رسول بھی ضروری ہے) ۔

There are a thousand Khybers here, a hundred kinds of dragons too. Not everyone who lives on barley bread can know a Hyder’s ways.

4

بچشم اهل نظر از سکندر افزون است

گداگری که مآل سکندری داند

آنکھ والوں (عقلمندوں ) کی نظر میں سکندر سے بڑھ کر ہے وہ گداگر جو سکندری کا انجام جانتا ہے (جو بادشاہت کے انجام سے آگاہ ہے) ۔

Better than Alexander in the eyes of the wise is a man, be he a beggar, who knows what the end of Alexanderism is.

5

به عشوه های جوانان ماه سیما چیست؟

در آبه حلقهٔ پیری که دلبری داند

چاند جیسی پیشانی والے جوانوں کی اداؤں میں کیا رکھا ہے (کوئی لطف نہیں ) اس پیر (بزرگ) کے حلقے میں آ جا جو دل لینا جانتا ہے ۔

What is there in the blandishments of fair-faced youth? Come; join the circle of an old man who knows how to conquer hearts.

6

فرنگ شیشه گری کرد و جام و مینا ریخت

به حیرتم که همین شیشه را پری داند

فرنگ نے شیشہ گری کی اور جام و مینا بنا لیے مجھے حیرت ہے کہ اب وہ اسی شیشے کو پری سمجھتا ہے یعنی بڑی دشواری کے بعد معشوق کو راضی کیا ہے ۔

The West makes glass, and fashions jars and cups. I am surprised it thinks the glass itself to be ‘the fairy in the glass.

7

چه گویمت ز مسلمان نا مسلمانی

جز اینکه پور خلیل است و آزری داند

میں تجھے اس نامسلماں مسلم کا کیا بتاؤں بس یہ کہ خلیل کا بیٹا ہے مگر آذر کے نقش قدم پر چل رہا ہے ۔

What can I say about a Muslim who is not a Muslim in his ways, save this that, though a scion of Abraham, he follows Azar’s way of life.

8

یکی به غمکدهٔ من گذر کن و بنگر

ستاره سوخته ئی کیمیا گری داند

کبھی میرے غمخانے میں آ اور آ کر دیکھ ایک نصیبوں جلا جو کیمیا گری کا فن جانتا ہے ۔ (اقبال کہتے ہیں کہ اگر تو کبھی مجھ سے ملے تو تجھ پر یہ حقیقت منکشف ہو گی کہ میری زندگی عبرت انگیز ہے یعنی میں کیمیا گر ہوں ۔ مٹی کو سونا بنا سکتا ہوں ، چونکہ ستارہ سوختہ بدقسمت ہوں اس لیے گمنامی کی زندگی بسر کر رہا ہوں ۔ بال جبریل میں لکھتے ہیں مقام گفتگو کیا اگر میں کیمیا گر ہوں یہی سوز نفس اور میری کیمیا کیا ہے ۔ انہیں ساری عمر یہ افسوس رہا کہ میری قوم کے نوجوان مجھ سے یہ فن کیوں نہیں سیکھتے ۔

Come into my abode of woes just for a while and see how well an ill-starred man has mastered alchemy.

9

بیا به مجلس اقبال و یک دو ساغر کش

اگرچه سر نتراشد قلندری داند

اقبال کی مجلس میں آ اور ایک دو پیالے نوش کر وہ اگرچہ سر نہیں منڈاتا مگر قلندری جانتا ہے ۔

Come and join Iqbal’s company, and share a drink or two with him. Although he does not shave his head, he knows qalandar’s ways.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مثل آئینه مشو محو جمال دگران

از دل و دیده فرو شوی خیال دگران

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 35

اگلی نظم

خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست

بنده ئی نیست که چون خواجه خریدارش نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 37

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

پریوشی که به رخ رسم دلبری داند

سگ خودم شمرد و آدمیگری داند

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 110

نه هر که چهره برافروخت دلبری داند

نه هر که آینه سازد سِکندری داند

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 177

نه هرکه خواجه شود بنده پروری داند

نه هرکه گردنی افراخت سروری داند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3877

نه هر سخن نشناسی سخنوری داند

نه هر سیاه دلی کیمیاگری داند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 3878

طریق دلبری تو مگر پری داند

که آدمی نه بدین شیوهٔ دلبری داند

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 223

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور