Nietzsche
گر نوا خواهی ز پیش او گریز
در نی کلکش غریو تندر است
نیٹشا پر یہ تیسری نظم ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو اس مجذوب فرنگی سے غیر معمولی دلچسپی تھی ۔ نیٹشا نے مسیحی فلسفہ اخلاق پر زبردست حملہ کیا ہے ۔ اس کا دماغ اس لیے کافر ہے کہ وہ خدا کا منکر ہے ۔ گو بعض اخلاقی نتاءج میں اس کے افکار مذہب اسلام کے بہت قریب ہیں ۔ مطلب: اگر تجھے نغمے کی طلب ہے تو اس کے آگے سے بھاگ (اس سے دور رہ) اس کے قلم کی نے میں بجلی کا کڑکا پوشیدہ ہے ۔
If song thou crave, flee form him! Thunder roars in the reed of his pen.
نیشتر اندر دل مغرب فشرد
دستش از خونِ چلیپا احمر است
اس نے مغرب کے دل میں نشتر چھبو دیا ہے ۔ اس کے ہاتھ عیسائیت کے خون سے سرخ ہیں ۔
He plunged a lancet into Europe’s heart; his hand is red with the blood of the Cross.
آنکه بر طرح حرم بتخانه ساخت
قلب او مؤمن دماغش کافر است
وہ ایسا شخص ہے جس نے حرم کی طرز پر بتخانہ کھڑا کیا ہے ۔ اس کا دل مومن اور دماغ کافر ہے(اسی قسم کا جملہ نبی کریم نے امیہ ابن الصات عرب شاعر کی نسبت کہا تھا ۔ اگر اس نے خدا کا انکار کیا تو اس لیے کہ اس کے زمانہ میں کوئی شخص ایسا موجود نہ تھا جو اسے مقام کبریا سے آگاہ کر سکتا اسی لیے اقبال نے یہ آرزو ظاہر کی تھی ۔
He reared a pagoda on the ruins of the Temple: His heart is a true believer, but his brain an infidel.
خویش را در نار آن نمرود سوز
زانکه بستان خلیل از آذر است
اپنے آپ کو اس نمرود کی آگ میں جلا کیونکہ خلیل کا گلزار آگ سے پھوٹا ہے ۔
Burn thyself in the fire of that Nimrod, for the garden of Abraham is produced from fire.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور