Jalal and Hegel
می گشودم شبی به ناخن فکر
عقده های حکیم المانی
مولانا جلال الدین رومی و ہیگل(جرمن فلاسفر) مطلب: ایک رات میں ناخن فکر سے جرمن فلسفی کی گتھیاں سلجھا رہا تھا ۔
One night I was engaged in teasing out the knots of Hegel’s philosophic thought;
آنکه اندیشه اش برهنه نمود
ابدی را ز کسوت آنی
وہ جس کی فکر نے الگ کر دیا ابدی حقیقت پر سے آنی جانی چیزوں کا لباس ۔
Which tore the veil of transient, finite things, laying bare the infinite, the absolute;
پیش عرض خیال او گیتی
خجل آمد ز تنگ دامانی
اس کی خیال کی وسعت کے آگے کائنات اپنی تنگ دامانی کے سبب شرمندہ ہے ۔
And whose conception’s grand, imposing range made the world shrink into a tiny mote.
چون بدریای او فرو رفتم
کشتی عقل گشت طوفانی
جونہی میں اس کے سمندر فکر میں اترا عقل کی ناوَ طوفان میں پھنس گئی ۔
When I plunged into that tempestuous sea, my mind became just like a storm-tossed boat.
خواب بر من دمید افسونی
چشم بستم ز باقی و فانی
نیند نے مجھ پر ایک افسوں پھونکا میں نے باقی اور فانی کی طرف سے آنکھ بند کر لی ۔
But soon a spell lulled me to slumber and shut out the finite and the infinite.
نگه شوق تیز تر گردید
چهره بنمود پیر یزدانی
میری شوق کی نگاہ اور زیادہ تیز ہو گئی ۔ اس ربانی مرشد رومی نے صورت دکھائی ۔
My inner vision sharpened, I observed an old man whose face was a godly sight:
آفتابی که از تجلی او
افق روم و شام نورانی
وہ سورج جس کے نور سے روم اور شام کا افق نورانی ہو گیا ۔
The man whose spirit’s glory, like the sun, has made the sky of Rum and Syria bright.
شعله اش در جهان تیره نهاد
به بیابان چراغ رهبانی
اندھیاری دنیا میں اسکی لپٹ (رومی کا) شعلہ اس تاریک دنیا کے اندر یوں روشن ہے جیسے بیابان کے اندر راستہ دکھانے والا چراغ ۔
Whose flame in this benighted wilderness shines like a path-illuminating light;
معنی از حرف او همی روید
صفت لاله های نعمانی
اس کے حرف سے معنی اگتے ہیں ۔ لالے کے سرخ پھولوں کی طرح ۔
From whose words meanings grow spontaneously like tulips riotously breaking out.
گفت با من چه خفته ئی برخیز
به سرابی سفینه می رانی؟
انھوں نے مجھ سے پوچھا کیا سویا پڑا ہے ۔ جاگ جا اور دیکھ کہ تو سراب میں اپنی کشتی چلا رہا ہے (کیا تو ہیگل کے فلسفہ میں حقیقت پانی ڈھونڈ رہا ہے جس طرح سراب سے پانی نہیں مل سکتا اسی طرح ہیگل کے فلسفہ سے حقیقت (معرفت الہٰی ) حاصل نہیں ہو سکتی ۔ ہیگل کے فلسفہ کا دارو مدار منطق پر ہے ۔ منطق سے سب کچھ مل سکتا ہے لیکن خدا نہیں مل سکتا ۔ ہیگل کا فلسفہ اپنی غیر معمولی شوکت اور عظمت کے باوجود سراب ہے ۔ محض لفاظی ہے، محض پوست ہے جس میں مغز نہیں ہے یا صدف ہے جس میں موتی نہیں ہے ۔
‘You sleep’, said he. ‘Awake, awake: To ply a boat in a mirage is folly’s height.
«به خرد راه عشق می پوئی؟
به چراغ آفتاب می جوئی؟»
تو عقل کی رہنمائی میں عشق کی راہ چل رہا ہے (اگر تو جویائے حقیقت ہے تو مسلک عشق اختیار کر) چراغ لیکے آفتاب ڈھونڈ رہا ہے (بھلا آفتاب کی روشنی کے سامنے چراغ کی کیا حقیقت
You’re bidding wisdom guide you on love’s path! You’re looking for the sun by candle-light!’
زمین
حکم نو کن که شاه دورانی
سکه تازه زن که سلطانی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3142
تا شدستی امیر چوگانی
ما شدستیم گوی میدانی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3148
جان جانی و جان صد جانی
میزنی نعرههای پنهانی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3160
خامشی ناطقی مگر جانی
میزنی نعرههای پنهانی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3161
یا وَلی نِعمَتی وَ سُلطانی
سابِقالحُسنُ ما لَهُ ثانی
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3229
یکی گفت که: اینجا چیزی فراموش کردهام
(خداوندگار) فرمود که:
رومیفیه ما فیهفصل سوم
بندهام گر به لطف میخوانی
حاکمی گر به قهر میرانی
سعدیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 610
ناخوشآوازی به بانگِ بلند قرآن همیخواند. صاحبدلی بر او بگذشت، گفت: تو را مُشاهره چند است؟ گفت: هیچ. گفت: پس این زحمتِ خود چندین چرا همیدهی؟ گفت: از بهرِ خدا میخوانم. گفت: از بهر خدا مخوان.
گر تو قرآن بر این نَمَط خوانی
سعدیگلستانباب چهارم در فواید خاموشیحکایت شمارهٔ 14
تا کی این لاف در سخن رانی
تا کی این بیهده ثنا خوانی
سناییدیوان اشعارقصایدقصیدهٔ شمارهٔ 192 - در نکوهش بزرگان زمان و مدح بونصر احمد سعید
زلف را تاب داد چندانی
که نه عقلی گذاشت نه جانی
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 798
فارسی متن کا ماخذ: گنجور