صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 10 - جلال و هگل

بخش 10 - جلال و هگل

Jalal and Hegel

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: انی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 11

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

می گشودم شبی به ناخن فکر

عقده های حکیم المانی

مولانا جلال الدین رومی و ہیگل(جرمن فلاسفر) مطلب: ایک رات میں ناخن فکر سے جرمن فلسفی کی گتھیاں سلجھا رہا تھا ۔

One night I was engaged in teasing out the knots of Hegel’s philosophic thought;

2

آنکه اندیشه اش برهنه نمود

ابدی را ز کسوت آنی

وہ جس کی فکر نے الگ کر دیا ابدی حقیقت پر سے آنی جانی چیزوں کا لباس ۔

Which tore the veil of transient, finite things, laying bare the infinite, the absolute;

3

پیش عرض خیال او گیتی

خجل آمد ز تنگ دامانی

اس کی خیال کی وسعت کے آگے کائنات اپنی تنگ دامانی کے سبب شرمندہ ہے ۔

And whose conception’s grand, imposing range made the world shrink into a tiny mote.

4

چون بدریای او فرو رفتم

کشتی عقل گشت طوفانی

جونہی میں اس کے سمندر فکر میں اترا عقل کی ناوَ طوفان میں پھنس گئی ۔

When I plunged into that tempestuous sea, my mind became just like a storm-tossed boat.

5

خواب بر من دمید افسونی

چشم بستم ز باقی و فانی

نیند نے مجھ پر ایک افسوں پھونکا میں نے باقی اور فانی کی طرف سے آنکھ بند کر لی ۔

But soon a spell lulled me to slumber and shut out the finite and the infinite.

6

نگه شوق تیز تر گردید

چهره بنمود پیر یزدانی

میری شوق کی نگاہ اور زیادہ تیز ہو گئی ۔ اس ربانی مرشد رومی نے صورت دکھائی ۔

My inner vision sharpened, I observed an old man whose face was a godly sight:

7

آفتابی که از تجلی او

افق روم و شام نورانی

وہ سورج جس کے نور سے روم اور شام کا افق نورانی ہو گیا ۔

The man whose spirit’s glory, like the sun, has made the sky of Rum and Syria bright.

8

شعله اش در جهان تیره نهاد

به بیابان چراغ رهبانی

اندھیاری دنیا میں اسکی لپٹ (رومی کا) شعلہ اس تاریک دنیا کے اندر یوں روشن ہے جیسے بیابان کے اندر راستہ دکھانے والا چراغ ۔

Whose flame in this benighted wilderness shines like a path-illuminating light;

9

معنی از حرف او همی روید

صفت لاله های نعمانی

اس کے حرف سے معنی اگتے ہیں ۔ لالے کے سرخ پھولوں کی طرح ۔

From whose words meanings grow spontaneously like tulips riotously breaking out.

10

گفت با من چه خفته ئی برخیز

به سرابی سفینه می رانی؟

انھوں نے مجھ سے پوچھا کیا سویا پڑا ہے ۔ جاگ جا اور دیکھ کہ تو سراب میں اپنی کشتی چلا رہا ہے (کیا تو ہیگل کے فلسفہ میں حقیقت پانی ڈھونڈ رہا ہے جس طرح سراب سے پانی نہیں مل سکتا اسی طرح ہیگل کے فلسفہ سے حقیقت (معرفت الہٰی ) حاصل نہیں ہو سکتی ۔ ہیگل کے فلسفہ کا دارو مدار منطق پر ہے ۔ منطق سے سب کچھ مل سکتا ہے لیکن خدا نہیں مل سکتا ۔ ہیگل کا فلسفہ اپنی غیر معمولی شوکت اور عظمت کے باوجود سراب ہے ۔ محض لفاظی ہے، محض پوست ہے جس میں مغز نہیں ہے یا صدف ہے جس میں موتی نہیں ہے ۔

‘You sleep’, said he. ‘Awake, awake: To ply a boat in a mirage is folly’s height.

11

«به خرد راه عشق می پوئی؟

به چراغ آفتاب می جوئی؟»

تو عقل کی رہنمائی میں عشق کی راہ چل رہا ہے (اگر تو جویائے حقیقت ہے تو مسلک عشق اختیار کر) چراغ لیکے آفتاب ڈھونڈ رہا ہے (بھلا آفتاب کی روشنی کے سامنے چراغ کی کیا حقیقت

You’re bidding wisdom guide you on love’s path! You’re looking for the sun by candle-light!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر نوا خواهی ز پیش او گریز

در نی کلکش غریو تندر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 9 - نیچه

اگلی نظم

نفسی درین گلستان ز عروس گل سرودی

بدلی غمی فزودی ز دلی غمی ربودی

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 11 - پتوفی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

حکم نو کن که شاه دورانی

سکه تازه زن که سلطانی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 3142

تا شدستی امیر چوگانی

ما شدستیم گوی میدانی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 3148

جان جانی و جان صد جانی

می‌زنی نعره‌های پنهانی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 3160

خامشی ناطقی مگر جانی

می‌زنی نعره‌های پنهانی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 3161

یا وَلی نِعمَتی وَ سُلطانی

سابِق‌الحُسنُ ما لَهُ ثانی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 3229

یکی گفت که: اینجا چیزی فراموش کرده‌ام

(خداوندگار) فرمود که:

رومی»فیه ما فیه»فصل سوم

بنده‌ام گر به لطف می‌خوانی

حاکمی گر به قهر می‌رانی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 610

ناخوش‌آوازی به بانگِ بلند قرآن همی‌خواند. صاحبدلی بر او بگذشت، گفت: تو را مُشاهره چند است؟ گفت: هیچ. گفت: پس این زحمتِ خود چندین چرا همی‌دهی؟ گفت: از بهرِ خدا می‌خوانم. گفت: از بهر خدا مخوان.

گر تو قرآن بر این نَمَط خوانی

سعدی»گلستان»باب چهارم در فواید خاموشی»حکایت شمارهٔ 14

تا کی این لاف در سخن رانی

تا کی این بیهده ثنا خوانی

سنایی»دیوان اشعار»قصاید»قصیدهٔ شمارهٔ 192 - در نکوهش بزرگان زمان و مدح بونصر احمد سعید

زلف را تاب داد چندانی

که نه عقلی گذاشت نه جانی

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 798

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور