صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 11 - پتوفی

بخش 11 - پتوفی

Petöfi

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)

قافیہ: ودی

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

نفسی درین گلستان ز عروس گل سرودی

بدلی غمی فزودی ز دلی غمی ربودی

(ہنگری کا جوانمرگ شاعرجو اپنے وطن کے لیے لڑتے ہوئے مارا گیا اس کی لاش بھی نہ ملی کہ کوئی خاکی یادگار ہی باقی رہ جاتی ۔ ) مطلب: تو نے بس دم بھر کو اس گلستان میں عروس گل کا نغمہ چھیڑا ۔ کسی دل میں غم بڑھا دیا کسی دل سے غم دور کر دیا ۔

In this garden, for just one moment, you sang of the bride-like rose, you increased the sorrow of some hearts, and dispelled the sorrow of others.

2

تو بخون خویش بستی کف لاله را نگاری

تو به آه صبحگاهی دل غنچه را گشودی

تو نے اپنے لہو سے گل لالہ کی ہتھیلی پر مہندی جمائی (نقش و نگار بنائے) تو نے صبح کی آہ سے کلی کا دل کھولا ۔

You painted the tulip’s palm with y our blood; and opened the bud’s heart with your sighs at dawn.

3

به نوای خود گم استی سخن تو مرقد تو

به زمین نه باز رفتی که تو از زمین نبودی

تو اپنی نوا میں گم ہو گیا ہے ۔ تیرا کلام تیرا مرقد ہے ۔ تو زمین کی طرف نہیں پلٹا کہ تو زمین سے نہیں تھا ۔

You are lost in your song – because your verse is your tomb: You did not return to earth because you were not of earth.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می گشودم شبی به ناخن فکر

عقده های حکیم المانی

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 10 - جلال و هگل

اگلی نظم

«بنی آدم اعضای یکدیگرند»

همان نخل را شاخ و برگ و برند

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور