مرد مزدور
Dialogue Between Auguste Comte and the Labourer
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)
صنف: چند بندی
Comte
«بنی آدم اعضای یکدیگرند»
همان نخل را شاخ و برگ و برند
آدم کے بیٹے ایک ہی بدن کے اعضاء ہیں یہ ایک ہی درخت کی شاخیں ، پتے اور پھول ہیں ۔
All men are one another’s limbs, the leaves and stems of one big tree.
دماغ ار خردزاست از فطرت است
اگر پا زمینساست از فطرت است
دماغ اور سوجھ بوجھ پیدا کرنے والا ہے تو یہ فطرت کا عطا کردہ ہے ۔ اگر پاؤں زمین گھسنے کو ہے تو یہ بھی فطرت کی وجہ سے ہے (فطری عمل ہے) ۔
If man’s brain is the seat of intellect and if his feet trail on the ground, this is because they both are bound by Nature’s ineluctable decree.
یکی کارفرما ، یکی کارساز
نیاید ز محمود کار ایاز
ایک کام بتانے والا ایک کام کرنے والا ۔ ایاز کا کام محمود سے نہیں ہوتا ۔
One man commands, another works, both born to it. A Mahmud cannot do the work of an Ayaz.
نبینی که از قسمت کار زیست
سراپا چمن میشود خار زیست
یہ تو نہیں دیکھتا کہ زندگی کے کاموں کی تقسیم سے زندگی کا کانٹا سراپا چمن بن جاتا ہے ۔
Do you not see it is because work is divided between you that life becomes a garden, with both rose and thorn?
The Labourer
فریبی به حکمت مرا ای حکیم
که نتوان شکست این طلسم قدیم
اے فلسفی تو مجھے فلسفے سے پرچا (فریب دے) رہا ہے کہ یہ پرانا طلسم نہیں ٹوٹ سکتا (توڑا نہیں جا سکتا) ۔
Philosopher, you cheat me when you say that I can never break my way out of this magic circle that you weave.
مس خام را از زر اندودهای
مرا خوی تسلیم فرمودهای
تو کچے تانبے کو سونے سے لپیٹ رہا ہے (سونے کا پانی چڑھا رہا ہے) ۔ تو مجھے راضی برضا ہونے کی عادت اختیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے ۔
You pass base brass for gold, and teach me to resign myself to fate.
کند بحر را آبنایم اسیر
ز خارا برد تیشهام جوی شیر
میری نہر سمندر کو اپنا اسیر بناتی ہے ۔ میرا تیشہ پتھر سے دودھ کی نہر نکالتا ہے ۔
With my pickaxe I excavate long waterways, in which I hold the very ocean prisoner, and retrieve milk and honey from Nature’s stores.
حق کوهکن دادی ای نکتهسنج
به پرویز پرکار و نابرده رنج
اے دانا تو نے کوہکن کا حق دے دیا چالاک پرویز کو جس نے کوئی سختی نہیں جھیلی (کوئی تکلیف نہیں اٹھائی) ۔
Purveyor of strange subtleties, you give poor Kohkan’s prize, for all his sores, to the idle, rich and sly Parvez.
خطا را به حکمت مگردان صواب
خضر را نگیری به دام سراب
اپنے فلسفہ کے زور سے غلط کو صحیح مت بنا تو خضر کو سراب کے جال میں نہیں لا سکتا ۔
Do not try passing wrong for right with your philosophy. You cannot dupe a Khizr’s sight with a mirage’s trickery.
به دوش زمین بار، سرمایهدار
ندارد گذشت از خور و خواب و کار
سرمایہ دار زمین کے کندھوں پر بوجھ ہے اسے سونے اور کھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ۔
The capitalist is a burden on earth, with nothing to do but eat and sleep:
جهان راست بهروزی از دست مزد
ندانی که این هیچ کار است دزد
دنیا کی خوشحالی مزدوروں کے ہاتھوں کی وجہ سے ہے ۔ تو نہیں جانتا کہ یہ ناکارہ چور ہے
Which thrives because of those who work on it; do you not know this idler is a thief by birth?
پی جرم او پوزش آوردهای
به این عقل و دانش فسون خوردهای
اس سرمایہ دار کے جرم کے واسطے عذر لایا ہے تو نے اس عقل و دانش پر فریب کھایا ہے ۔
The crime that he exists you want excused. With all your wisdom you have been bemused.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور