صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور

مرد مزدور

Dialogue Between Auguste Comte and the Labourer

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
حکیم:

Comte

Toggle stanza 1
1

«بنی آدم اعضای یکدیگرند»

همان نخل را شاخ و برگ و برند

آدم کے بیٹے ایک ہی بدن کے اعضاء ہیں یہ ایک ہی درخت کی شاخیں ، پتے اور پھول ہیں ۔

All men are one another’s limbs, the leaves and stems of one big tree.

2

دماغ ار خردزاست از فطرت است

اگر پا زمین‌ساست از فطرت است

دماغ اور سوجھ بوجھ پیدا کرنے والا ہے تو یہ فطرت کا عطا کردہ ہے ۔ اگر پاؤں زمین گھسنے کو ہے تو یہ بھی فطرت کی وجہ سے ہے (فطری عمل ہے) ۔

If man’s brain is the seat of intellect and if his feet trail on the ground, this is because they both are bound by Nature’s ineluctable decree.

3

یکی کارفرما ، یکی کارساز

نیاید ز محمود کار ایاز

ایک کام بتانے والا ایک کام کرنے والا ۔ ایاز کا کام محمود سے نہیں ہوتا ۔

One man commands, another works, both born to it. A Mahmud cannot do the work of an Ayaz.

4

نبینی که از قسمت کار زیست

سراپا چمن می‌شود خار زیست

یہ تو نہیں دیکھتا کہ زندگی کے کاموں کی تقسیم سے زندگی کا کانٹا سراپا چمن بن جاتا ہے ۔

Do you not see it is because work is divided between you that life becomes a garden, with both rose and thorn?

بند 2
مرد مزدور:

The Labourer

Toggle stanza 2
5

فریبی به حکمت مرا ای حکیم

که نتوان شکست این طلسم قدیم

اے فلسفی تو مجھے فلسفے سے پرچا (فریب دے) رہا ہے کہ یہ پرانا طلسم نہیں ٹوٹ سکتا (توڑا نہیں جا سکتا) ۔

Philosopher, you cheat me when you say that I can never break my way out of this magic circle that you weave.

6

مس خام را از زر اندوده‌ای

مرا خوی تسلیم فرموده‌ای

تو کچے تانبے کو سونے سے لپیٹ رہا ہے (سونے کا پانی چڑھا رہا ہے) ۔ تو مجھے راضی برضا ہونے کی عادت اختیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے ۔

You pass base brass for gold, and teach me to resign myself to fate.

7

کند بحر را آبنایم اسیر

ز خارا برد تیشه‌ام جوی شیر

میری نہر سمندر کو اپنا اسیر بناتی ہے ۔ میرا تیشہ پتھر سے دودھ کی نہر نکالتا ہے ۔

With my pickaxe I excavate long waterways, in which I hold the very ocean prisoner, and retrieve milk and honey from Nature’s stores.

8

حق کوهکن دادی ای نکته‌سنج

به پرویز پرکار و نابرده رنج

اے دانا تو نے کوہکن کا حق دے دیا چالاک پرویز کو جس نے کوئی سختی نہیں جھیلی (کوئی تکلیف نہیں اٹھائی) ۔

Purveyor of strange subtleties, you give poor Kohkan’s prize, for all his sores, to the idle, rich and sly Parvez.

9

خطا را به حکمت مگردان صواب

خضر را نگیری به دام سراب

اپنے فلسفہ کے زور سے غلط کو صحیح مت بنا تو خضر کو سراب کے جال میں نہیں لا سکتا ۔

Do not try passing wrong for right with your philosophy. You cannot dupe a Khizr’s sight with a mirage’s trickery.

10

به دوش زمین بار، سرمایه‌دار

ندارد گذشت از خور و خواب و کار

سرمایہ دار زمین کے کندھوں پر بوجھ ہے اسے سونے اور کھانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ۔

The capitalist is a burden on earth, with nothing to do but eat and sleep:

11

جهان راست بهروزی از دست مزد

ندانی که این هیچ کار است دزد

دنیا کی خوشحالی مزدوروں کے ہاتھوں کی وجہ سے ہے ۔ تو نہیں جانتا کہ یہ ناکارہ چور ہے

Which thrives because of those who work on it; do you not know this idler is a thief by birth?

12

پی جرم او پوزش آورده‌ای

به این عقل و دانش فسون خورده‌ای

اس سرمایہ دار کے جرم کے واسطے عذر لایا ہے تو نے اس عقل و دانش پر فریب کھایا ہے ۔

The crime that he exists you want excused. With all your wisdom you have been bemused.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نفسی درین گلستان ز عروس گل سرودی

بدلی غمی فزودی ز دلی غمی ربودی

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 11 - پتوفی

اگلی نظم

حکمتش معقول و با محسوس در خلوت نرفت

گرچه بکر فکر او پیرایه پوشد چون عروس

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 13 - هگل

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور