صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 32

غزل شمارهٔ 32

غزل نمبر32

Ghazal No. 32

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اهیبخشند

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند

کلهٔ جم به گدای سر راهی بخشند

پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔

The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.

2

در ره عشق فلان ابن فلان چیزی نسیت

ید بیضای کلیمی به سیاهی بخشند

عشق کی راہ میں نام و نسب (فلاں ابن فلاں ) کوئی چیز نہیں ۔ حضرت موسیٰ کا ید بیضا کسی حبشی کو بخش دیا جاتا ہے ۔

In Love’s way who is who is of little account. The white palm of a Moses is conferred on a black man.

3

گاه شاهی به جگر گوشهٔ سلطان ندهند

گاه باشد که بزندانی چاهی بخشند

کبھی سلطان کے فرزند تک کو بادشاہی نہیں دیتے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک کنویں میں پڑے ہوئے شخص (یوسف) کو بخش دیتے ہیں ۔

Sometimes kingship is not bestowed on the son of a king; sometimes it is bestowed upon a prisoner in a well.

4

فقر را نیز جهانبان و جهانگیر کنند

که به این راه نشین تیغ نگاهی بخشند

فقر کو بھی جہاں کا رکھوالا اور حاکم بنا دیتے ہیں اسی لیے اس راہ نشیں کو نگاہ کی تلوار عطا کرتے ہیں ۔ اسی مضمون کو اقبال نے بال جبریل میں یوں ادا کیا ہے ۔ نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی

A wayside beggar may be turned into a conqueror and ruler of the world by having granted to his eyes the cutting power of a sword.

5

عشق پامال خرد گشت و جهان دیگر شد

بود آیا که مرا رخصت آهی بخشند

عشق، عقل کے ہاتھوں پامال ہو گیا اور جہان بدل گیا (دنیا وہ نہیں رہی) کیا ایسا ہو گا کہ وہ مجھے ایک آہ کی رخصت بخش دیں ۔

Love has been overthrown by reason, and the world is upside down. It may be that I shall be given freedom to wail over this.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است

این شمع را فروغ ز پروانهٔ دل است

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 31

اگلی نظم

نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه می‌آیی

ولیکن سوی مشتاقان چه مشتاقانه می‌آیی

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 33

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور