غزل نمبر32
Ghazal No. 32
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اهیبخشند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند
کلهٔ جم به گدای سر راهی بخشند
پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔
The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.
در ره عشق فلان ابن فلان چیزی نسیت
ید بیضای کلیمی به سیاهی بخشند
عشق کی راہ میں نام و نسب (فلاں ابن فلاں ) کوئی چیز نہیں ۔ حضرت موسیٰ کا ید بیضا کسی حبشی کو بخش دیا جاتا ہے ۔
In Love’s way who is who is of little account. The white palm of a Moses is conferred on a black man.
گاه شاهی به جگر گوشهٔ سلطان ندهند
گاه باشد که بزندانی چاهی بخشند
کبھی سلطان کے فرزند تک کو بادشاہی نہیں دیتے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک کنویں میں پڑے ہوئے شخص (یوسف) کو بخش دیتے ہیں ۔
Sometimes kingship is not bestowed on the son of a king; sometimes it is bestowed upon a prisoner in a well.
فقر را نیز جهانبان و جهانگیر کنند
که به این راه نشین تیغ نگاهی بخشند
فقر کو بھی جہاں کا رکھوالا اور حاکم بنا دیتے ہیں اسی لیے اس راہ نشیں کو نگاہ کی تلوار عطا کرتے ہیں ۔ اسی مضمون کو اقبال نے بال جبریل میں یوں ادا کیا ہے ۔ نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا یہ سپہ کی تیغ بازی وہ نگہ کی تیغ بازی
A wayside beggar may be turned into a conqueror and ruler of the world by having granted to his eyes the cutting power of a sword.
عشق پامال خرد گشت و جهان دیگر شد
بود آیا که مرا رخصت آهی بخشند
عشق، عقل کے ہاتھوں پامال ہو گیا اور جہان بدل گیا (دنیا وہ نہیں رہی) کیا ایسا ہو گا کہ وہ مجھے ایک آہ کی رخصت بخش دیں ۔
Love has been overthrown by reason, and the world is upside down. It may be that I shall be given freedom to wail over this.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور