غزل نمبر33
Ghazal No. 33
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: انهمیایی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه میآیی
ولیکن سوی مشتاقان چه مشتاقانه میآیی
نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔
You cannot fit into the Harem, nor into the idol-house. But O how eagerly you come to those who seek you eagerly.
قدم بیباکتر نه در حریم جان مشتاقان
تو صاحبخانهای آخر چرا دزدانه میآیی
جو میری طرف ایک قدم بڑھاتا ہے میں اسکی طرف دس قدم بڑھتا ہوں ۔ چاہت کے ماروں کے دل کے حجرے میں بالکل بے دھڑک ہو کر قدم رکھ تو تو اس گھر کا مالک ہے آخر کس لیے چوری چھپے آتا ہے ۔
Set foot more boldly in the sanctum of your lovers’ hearts. You are the master of the house. Why do you come in stealthily?
به غارت میبری سرمایهٔ تسبیحخوانان را
به شبخون دل زناریان ترکانه میآیی
خدا کے نام لیواؤں کی پونجی لوٹ میں لے جاتا ہے تو بتوں کے پرستاروں کے دل پر دھاوا بولنے کے لیے ترکوں کی طرح آتا ہے (شبخون مارتا ہے) ۔
You plunder the possessions of the Sayers of the rosary, and you make night-raids on the hearts of wearers of the sacred thread.
گه صد لشکر انگیزی که خون دوستان ریزی
گهی در انجمن با شیشه و پیمانه میآیی
کبھی لشکر پہ لشکر چڑھاتا ہے کہ اپنے ہی دوستوں کا خون بہائے کبھی بزم میں صراحی اور پیمانہ لئے ہوئے آتا ہے ۔
Sometimes you raise a hundred hosts to shed the blood of friends, and sometimes come into the company equipped with measure and with cups.
تو بر نخل کلیمی بیمحابا شعله میریزی
تو بر شمع یتیمی صورت پروانه میآیی
تو موسیٰ کے شجر پر بیدریغ آگ برساتا ہے اور تو ہی ایک یتیم کی شمع پر پروانہ وار آتا ہے ۔ حضرت موسیٰ کی درخواست پر بھی اپنا جلوہ نہ دکھایا اور حضرت محمد مصطفی کو ان کی التجا کے بغیر اپنا دیدار کرایا ۔
On the bush of a Moses you hurl flames so ruthlessly, and to the candle of an orphan you come gladly like a moth.
بیا اقبال جامی از خمستان خودی در کش
تو از میخانهٔ مغرب ز خود بیگانه میآیی
اقبال آ خودی کے میکدے سے ایک جام پی تو یورپ کے شراب خانے سے اپنا آپ بھلا کر آیا ہے ۔
Come; quaff a cup of wine, Iqbal, from the wine-cellar of the self. You are back from the tavern of the West a stranger to yourself.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور