صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 34

غزل شمارهٔ 34

غزل نمبر34

Ghazal No. 34

شاعر: علامہ اقبال

وزن: متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن

قافیہ: ازمن

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من

که به یک نگاه محمد عربی گرفت حجاز من

عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔

The animation in the idol-temple of ‘Ajam does not match the great ardour of my heart, for with one glance Muhammad of Arabia has conquered the Hijaz that is in me.

2

چه کنم که عقل بهانه جو گرهی به روی گره زند

نظری که گردش چشم تو شکند طلسم مجاز من

اے آقا میں کیا کروں کہ بہانہ ساز عقل گرہ پر گرہ ڈالتی جاتی ہے (الجھنیں بڑھا رہی ہے) ایک نگاہ کہ تیری آنکھ کی گردش میری نظر کے دھوکے کا توڑ کر دے گی (میرے مجاز کا طلسم ٹوٹ جائے) ۔

What shall I do? The wily intellect has tied me up in knots. One glance, I pray. The motion of your eye perhaps will break its fiction’s spell.

3

نرسد فسونگری خرد به تپیدن دل زنده‌ای

ز کنشت فلسفیان در آ به حریم سوز و گداز من

عقل کی جادوگری، دل زندہ کی تڑپ کو نہیں پہنچتی، فلسفیوں کے بتخانے سے میرے سوز و گداز کے حرم میں آجا ۔ مسلک عشق اختیار کر لے ۔

The magic tricks of reason do not touch the fervour of a living heart. Forsake the temple of philosophy, and come into the sanctum of my heart.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه می‌آیی

ولیکن سوی مشتاقان چه مشتاقانه می‌آیی

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 33

اگلی نظم

مثل آئینه مشو محو جمال دگران

از دل و دیده فرو شوی خیال دگران

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 35

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

تب وتاب اشک چکیده‌ام‌که رسد به معنی راز من

زشکست شیشهٔ دل مگر شنوی حدیث‌گداز من

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2526

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور