غزل نمبر31
Ghazal No. 31
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
قافیہ: انهدلاست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است
این شمع را فروغ ز پروانهٔ دل است
سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔
The fervent quality of verse comes from the heart’s ecstatic cry. This candle is alight thanks to the heart, which is its moth.
مشت گلیم و ذوق فغانی نداشتیم
غوغای ما ز گردش پیمانهٔ دل است
ہم تو مٹھی بھر مٹی ہیں ہم نے جی کی پکار کا مزا کب چکھا تھا ۔ ہماری ساری ہائے و ہو دل کے پیالے کی گردش سے ہے ۔
A handful of mere dust, we had no gusto for lament. Our clamour is all due to the rotation of the heart’s wine-cup.
این تیره خاکدان که جهان نام کرده ئی
فرسوده پیکری ز صنم خانهٔ دل است
یہ تاریک خاکدان (دنیا) جسے تو نے جہان کا نام دیا ہے دل کے صنم خانے کی ایک گھسی پٹی مورت ہے ۔
This dark abode of dust, which you have named the world, is just a worn-out image from the idol-temple of the heart.
اندر رصد نشسته حکیم ستاره بین
در جستجوی سرحد ویرانهٔ دل است
رصدگاہ میں بیٹھا ستارہ شناس (جو کائنات کی وسعت کا اندازہ کرتا ہے) ابھی ویرانہ دل کی سرحد کی تلاش میں ہے (جس طرح یہ کائنات غیر محدود ہے اسی طرح دل کی دنیا بھی غیر محدود ہے) ۔
Sitting in his observatory, the star-gazing astronomer is looking for the boundary of the heart’s wilderness.
لاهوتیان اسیر کمند نگاه او
صوفی هلاک شیوه ترکانهٔ دل است
لاہوت والے (فرشتے) اس کی نگاہ کی کمند میں جکڑے ہوئے ہیں (عشق میں یہ طاقت ہے کہ وہ عالم لاہوت کو بھی مسخر کر سکتا ہے) ۔ صوفی دل کی جان لیوا محبوبانہ اداؤں کا مارا ہوا ہے ۔
Celestial beings are caught in the lasso of His glance. The Sufi is a victim of the depredations of the heart.
محمود غزنوی که صنم خانه ها شکست
زناری بتان صنم خانهٔ دل است
محمود غزنوی جس نے کئی بتخانے توڑے وہ بھی دل کے مندر کے بتوں کا بندہ ہے ۔
Mahmud of Ghazna, who razed idol-houses to the ground, himself became a votary of the heart’s idol-house.
غافل تری ز مرد مسلمان ندیده ام
دل در میان سینه و بیگانهٔ دل است
میں نے کسی کو مسلمان سے زیادہ غافل نہیں دیکھا ۔ سینے میں دل ہے مگر اس سے بے خبر ہے ۔
One more insouciant than the Muslim I have never seen. He has a heart in his breast, yet he is a stranger to the heart.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور