صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 42

غزل شمارهٔ 42

غزل نمبر42 (یہ غزل اقبال نے حافظ کی اس غزل کے جواب میں لکھی ہے جس کا یہ مقطع بہت مشہور ہے)

Ghazal No. 42

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: نینیستکهنیست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

سر خوش از بادهٔ تو خم شکنی نیست که نیست

مست لعلین تو شیرین سخنی نیست که نیست

نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔

There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.

2

در قبای عربی خوشترک آئی به نگاه

راست بر قامت تو پیرهنی نیست که نیست

عربی قبا میں تیری اور ہی چھب نظر آتی ہے ورنہ کوئی جامہ نہیں جو آپ کی قامت پہ سجتا نہ ہو ۔

In Arab dress you are most pleasing to the eyes, but there is no dress which does not suit you.

3

گرچه لعل تو خموش است ولی چشم ترا

با دل خون شدهٔ ما سخنی نیست که نیست

اگرچہ تیرے لب خاموشی ہیں مگر تیری آنکھوں کی ہمارے لہو ہو چکے دل کی ساتھ وہ کون سی بات ہے جو نہ ہوتی ہو (تیری آنکھیں سرگرم گفتگو ہیں بلکہ دنیا جہان کی باتیں کر رہی ہیں ) ۔

Your lips are silent, but your eyes are not. O there is not a thing that they do not say to my bleeding heart.

4

تا حدیث تو کنم بزم سخن می سازم

ورنه در خلوت من انجمنی نیست که نیست

شاعری کی محفل سجا لیتا ہوں تا کہ تیرا ذکر کروں ورنہ ایسی کوئی انجمن نہیں جو میری خلوت میں نہ ہو ( میں تو اپنی خلوت میں گھنٹوں ، پہروں تجھ سے مسلسل گفتگو کرتا رہتا ہوں ۔

I hold poetic gatherings only to sing of you, for otherwise there is no gathering that I cannot conjure up in my solitude.

5

ای مسلمان دگر اعجاز سلیمان آموز

دیده بر خاتم تو اهرمنی نیست که نیست

اے مسلمان سلیمان کا معجزہ پھر سے سیکھ کوئی دیو نہیں جو تیری انگوٹھی کی تاک میں نہ ہو ۔

O Muslim, learn again how to work miracles like Solomon. There is no Ahriman who does not have an eye upon your ring.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نظر تو همه تقصیر و خرد کوتاهی

نرسی جز به تقاضای کلیم اللهی

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 41

اگلی نظم

اگرچه زیب سرش افسر و کلاهی نیست

گدای کوی تو کمتر ز پادشاهی نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 43

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور