صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 39

غزل شمارهٔ 39

غزل نمبر39

Ghazal No. 39

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ارهایم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

خاکیم و تند سیر مثال ستاره‌ایم

در نیلگون یمی به تلاش کناره‌ایم

ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔

We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.

2

بود و نبود ماست ز یک شعلهٔ حیات

از لذت خودی چو شرر پاره‌پاره‌ایم

ہمارا وجود و عدم ایک ہی شعلہ حیات سے ہے ہم خودی کی لذت سے چنگاریوں کی طرح پارہ پارہ ہیں (ہر روح اللہ تعالیٰ کی روح میں سے پھونکی ہوئی ہے) ۔

We owe our being to a single flame of life; but, from the joy of selfhood, we are split up as so many sparks.

3

با نوریان بگو که ز عقل بلند دست

ما خاکیان به دوش ثریا سواره‌ایم

فرشتوں کو بتا دے کہ اونچی پہنچ رکھنے والی عقل سے ہم زمین والوں نے ثریا کے کاندھے پر سواری کر رکھی ہے ۔

O tell the creatures of light this: that by dint of the intellect we creatures of dust ride the stars.

4

در عشق غنچه‌ایم که لرزد ز باد صبح

در کار زندگی صفت سنگ خاره‌ایم

عشق کے معاملہ میں ہم اس غنچہ کی مانند ہیں جو صبح کی ہوا سے لرز جاتا ہے ۔ زندگی کے کاروبار میں ہم سخت پتھر کی مانند مضبوط ہیں ۔

In love we are buds shaking in the morning breeze; but in the business of life we are quite as hard as granite.

5

چشم آفریده‌ایم چو نرگس درین چمن

روبند برگشا که سراپا نظاره‌ایم

ہم نے اس چمن میں نرگس کی طرح آنکھ پیدا کی ہے (دیکھنے کی صلاحیت پیدا کی ہے) نقاب اٹھا کہ ہم سراپا نظر ہیں (ایک جھلک ہمیں دکھا دے کیونکہ ہم اشتیاق دید میں سراپا نظر بنے ہوئے ہیں ) ۔

Like the narcissus we have grown eyes in this garden. O lift the veil that hides Your face; we are all eyes for You.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است

عروس لاله سراپا کرشمه و ناز است

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 38

اگلی نظم

عرب از سرشک خونم همه لاله‌زار بادا

عجم رمیده بو را نفسم بهار بادا

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 40

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ما قحطیان تشنه و بسیارخواره‌ایم

بیچاره نیستیم که درمان و چاره‌ایم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1709

تا واله نظاره آن ماهپاره ایم

از خود پیاده ایم و به گردون سواره ایم

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 5865

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور