صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 38

غزل شمارهٔ 38

غزل نمبر38

Ghazal No. 38

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازاست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است

عروس لاله سراپا کرشمه و ناز است

(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔

Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.

2

نوا ز پردهٔ غیب است ای مقام شناس

نه از گلوی غزل خوان نه از رگ ساز است

اے سر کے پار رکھ نغمہ تو غیب کے پردے سے نکلتا ہے نہ غزل خواں کے گلے سے نہ ساز کے تار سے (سوز و گداز نہ آواز میں ہے نہ ساز مین ہے ، بلکہ دل میں پوشیدہ ہے) ۔

O connoisseur of music, melody comes forth from strings invisible, not from the singer’s throat, nor from the frets of lute or harp.

3

کسی که زخمه رساند به تار ساز حیات

ز من بگیر که آن بنده محرمراز است

وہ شخص جو زندگی کے ساز کے تار چھیڑتا ہے مجھ سے سن لے کہ وہ بندہ حقیقت تک پہنچا ہوا ہے ۔

Whoever strikes the strings of life’s lute with a plectrum is, take it from me, a man who knows the mysteries.

4

مرا ز پردگیان جهان خبر دادند

ولی زبان نگشایم که چرخ کج باز است

مجھے کائنات کے پوشیدہ رازوں کی خبر دی گئی ہے لیکن میں زبان نہیں کھولتا کیونکہ آسمان بڑا فسادی ہے (میری گھات میں لگا ہوا ہے)(اگر میں اسرار عشق آشکار کردوں تو میرا حشر بھی وہی ہو گا جو منصور کا ہوا) ۔

I have been given knowledge of what is behind veils in the world; but dare not open my mouth, for the heavens are so perverse.

5

سخن درشت مگو در طریق یاری کوش

که صحبت من و تو در جهان خدا ساز است

تلخ بات نہ کہہ دوستی کی راہ میں سعی کر (ہر شخص سے محبت کا برتاوَ کر)کیونکہ دنیا میں میرا تیرا ساتھ خدا کا بنایا ہوا ہے (اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے، ہم دنیا میں چند روز کے لیے آئے ہیں ) ۔

Do not speak harshly, try the way of amity. That you and I are here together is a pure godsend.

6

کجاست منزل این خاکدان تیره نهاد

که هر چه هست چو ریگ روان به پرواز است

اندھیروں کی بنی اس دنیا کی منزل مقصود کہاں ہے کہ جو ہے وہ ریت کی طرح اڑتی چلی جا رہی ہے (فنا کی طرف رواں ہے) ۔

What is the destination of this dark abode of dust? Whatever there is in it is like shifting sand.

7

تنم گلی ز خیابان جنت کشمیر

دل از حریم حجاز و نوا ز شیراز است

میرا جسم کشمیر کی جنت کی کیاری کا ایک پھول ہے (حسب و نسب کے لحاظ سے میں کشمیری ہوں ) ۔ دل حریم حجاز سے ہے اور نغمہ شیراز سے (دل عقائد کے لحاظ سے میں حجازی مسلمان ہوں اور میری شاعری میں سعدی اور حافظ کا رنگ پایا جاتا ہے) ۔

My body is a flower from a flower-bed in Kashmir’s paradise. My heart is from the sanctum of Hijaz. My song is from Shiraz.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست

بنده ئی نیست که چون خواجه خریدارش نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 37

اگلی نظم

خاکیم و تند سیر مثال ستاره‌ایم

در نیلگون یمی به تلاش کناره‌ایم

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 39

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نسیم‌گل به خموشی ترانه‌پرداز است

که موج رنگ‌گل این چمن رگ ساز است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 482

ز شور حیرت من گوش‌ عالمی باز است

نگه به پردهٔ چشمم هجوم آواز است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 483

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور