صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 5 - صحبت رفتگان (در عالم بالا)

بخش 5 - صحبت رفتگان (در عالم بالا)

An Assemblage in the Other World

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
تولستوی

Tolstoy

Toggle stanza 1
1

بارکش اهرمن لشکری شهریار

از پی نان جوین تیغ ستم بر کشید

شیطان کا بوجھ ڈھونے (اٹھانے ) والا بادشاہ کا لشکری ہے ۔ جو کی روٹی کے لیے اس نے ظلم کی تلوار اٹھا لی ۔

Ahriman’s hirelings, warriors of kings, draw oppression’s sword for a loaf of bread. Evil is their good, and the husk their food. Friends of others, these are their own kin’s foes. Country, church and crown are narcotics grown by the masters to buy their slaves’ souls with.

2

زشت به چشمش نکوست مغز نداند ز پوست

مردک بیگانه دوست سینهٔ خویشان درید

برا اس کی آنکھوں میں بھلا ہے ۔ وہ مغز اور پوست میں تمیز نہیں کرتا ۔ غیروں کو دوست رکھنے والا احمق اس نے اپنوں کا سینہ چھلنی کر دیا ۔

3

داروی بیهوشی است تاج ، کلیسا ، وطن

جان خداداد را خواجه بجامی خرید

بے ہوشی کی دوا ہے ملوکیت، پاپائیت ، وطنیت خدا کی دی ہوئی جان کو سرمایہ دار نے ایک جام کے مول خرید لیا ہے ۔

بند 2
کارل مارکس

Karl Marx

Toggle stanza 2
4

رازدان جزو و کل از خویش نامحرم شد است

آدم از سرمایه‌داری قاتل آدم شد است

جزو کل کا بھید جاننے والا انسان خود اپنے آپ سے انجان ہو چکا ہے ۔ سرمایہ داری کے ہاتھوں آدمی خود آدمی کا قاتل بن گیا ۔

For all his wisdom, man is not yet self-aware, and capitalism has rendered man man’s murderer.

بند 3
هگل

Hegel

Toggle stanza 3
5

جلوه دهد باغ و راغ معنی مستور را

عین حقیقت نگر حنظل و انگور را

باغ اور بن چھپی ہوئی حقیقت کے درشن کراتے ہیں ۔ حنظل اور انگور کو عین حقیقت دیکھ ۔

Reality is double-faced. The orchard and the desert are two aspects of it that one sees. To know the whole truth one must taste both grapes and bitter gourds. So fond is Nature of antitheses that it has set at war employees and employers, slaves and lords.

6

فطرت اضداد خیز لذت پیکار داد

خواجه و مزدور را ، آمر و مأمور را

اضداد کو ابھارنے والی فطرت نے پیکار کی لذت بخشی سرمایہ دار اور مزدور کو ، حاکم اور محکوم کو ۔

بند 4
تولستوی

Tolstoy

Toggle stanza 4
7

عقل دو رو آفرید فلسفهٔ خودپرست!

درس رضا میدهی بندهٔ مزدور را؟

دوزخی عقل نے خود پرستی کا فلسفہ ایجاد کیا ۔ کیا تو بندہَ مزدور کو تقدیر پر راضی رہنے کا درس دیتا ہے ۔

The two-faced intellect with its philosophy of egotism bids the worker suffer patiently.

بند 5
مزدک

Mazdak

Toggle stanza 5
8

دانهٔ ایران ز کشتِ زار و قیصر بر دمید

مرگ نو می رقصد اندر قصر سلطان و امیر

ایران کا بیج زارا اور قیصر کی کھیتی سے پھوٹا ۔ بادشاہوں اور سرمایہ داروں کے محل میں ایک نئی موت ناچ رہی ہے ۔

Iran’s seed sprouts forth from the soil of the empires of the Kaisers and the Czars. Death dances a new dance in kings’ and rich men’s palaces. For ages does an Abraham burn in a Nimrod’s fire before he can cast out old idols from the sanctuary of his Lord. Gone is the age of Parvez, wake up now, O victims of his tyranny. Wrest back from him the good things he deprived you of.

9

مدتی در آتش نمرود می سوزد خلیل

تا تهی گردد حریمش از خداوندان پیر

اللہ کا خلیل نمرود کی آگ میں ایک مدت جلتا ہے تب کہیں اس کا حرم پرانے خداؤں سے خالی ہوتا ہے ۔

10

دور پرویزی گذشت ای کشتهٔ پرویز خیز

نعمت گم گشتهٔ خود را ز خسرو باز گیر

پرویز کا دور گزر گیا، اے پرویزی مظالم کے شکار اٹھ اپنی کھوئی ہوئی نعمت کو خسرو سے واپس لے ۔

Tolstoy: The two-faced intellect with its philosophy of egotism bids the worker suffer patiently.

بند 6
کوهکن

Kohkan

Toggle stanza 6
11

نگار من که بسی ساده و کم آمیز است

ستیزه کیش و ستم کوش و فتنه انگیز است

کوہکن: یہ فرہاد کا لقب ہے جو شیریں پر عاشق تھا جو خسرو پرویز شاہ ایران کی محبوبہ تھی مطلب: میرا محبوب جو ویسے تو بہت سادہ اور کم آمیز ہے ۔ لڑائی کی خو رکھنے والا اور نت نئے ستم ڈھانے والا اور فتنے اٹھانے والا ہے ۔

Though outwardly so simple and so shy, my loved one is a tyrant, sly and full of mischief and deceit.

12

برون او همه بزم و درون او همه رزم

زبان او ز مسیح و دلش ز چنگیز است

خاک سے آسمان تک جو کچھ بھی ہے ، سفر میں ہے ، (تو بھی) قدم اٹھا کیونکہ کارواں کی رفتار (بہت) تیز ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

She looks all amity, but is a fighter in reality. Like Christ’s her tongue is sweet: Her heart is hard like that of Genghis Khan, that cruel man.

13

گسست عقل و جنون رنگ بست و دیده گداخت

در آ به جلوه که جانم ز شوق لبریز است

عقل کوچ کر گئی اور دیوانگی نے رنگ جمایا اور دیدے بہہ گئے (میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے) ۔ سامنے آ اپنا جلوہ دکھا کہ میری جان شوق سے بھری ہوئی ہے ۔

My intellect has broken down: My madness will soon reach its crown; my vision has dissolved in tears. Appear to me: I pine for you.

14

اگرچه تیشهٔ من کوه را ز پا آورد

هنوز گردش گردون بکام پرویز است

اگرچہ میرے تیشے نے پہاڑ کو ڈھا دیا ہے مگر اب تک آسمان کی گردش پرویز کی موافقت میں ہے (اس لیے اے تمام دنیا کے مزدورو متحد ہو جاوَ) ۔

My pickaxe has laid low a hill at your command; but still the world appears to favour Parvez, as you do.

15

ز خاک تا به فلک هر چه هست ره پیماست

قدم گشای که رفتار کاروان تیز است

زمین سے آسمان تک جو کچھ ہے سفر میں ہے تو بھی قدم اٹھا کہ قافلے کہ رفتار بہت تیز ہے (کائنات کا ذرہ ذرہ مصروف عمل ہے جو شخص عمل نہیں کرتا وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ )

From earth to sky all things seem running in a race. The caravan moves fast: make haste, increase your pace.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فلسفی را با سیاست دان بیک میزان مسنج

چشم آن خورشید کوری دیدهٔ این بی نمی

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 4 - فلسفه و سیاست

اگلی نظم

از سستی عناصر انسان دلش تپید

فکر حکیم پیکر محکم‌تر آفرید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 6 - نیچه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور