صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
افکار ۔ گلِ نخستین
The First Rose
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 1 - گل نخستین
دعا
A Prayer
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 2 - دعا
ہلال عید
The New Moon of Eid
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 3 - هلال عید
پھول کی خوشبو
The Perfume of the Flower
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 5 - بوی گل
ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی
Eternal Life
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 8 - حیات جاوید
زندگی
Life
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 10 - زندگی
صبح کی نرم و لطیف ہوا
The Morning Breeze
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 13 - نسیم صبح
کتاب کا کیڑا
The Bookworm and the Moth
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 15 - کرم کتابی
کبر و ناز
Vanity
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 16 - کبر و ناز
فلسفہ اور شعر
Philosophy and Poetry
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 18 - حکمت و شعر
حقیقت
Reality
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 20 - حقیقت
ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)
Sakinama
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 24 - ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد
شاہین اور مچھلی
The Young Fish and the Eaglet
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 25 - شاهین و ماهی
The Glow-Worm
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 26 - کرمک شبتاب
Life
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 32 - زندگی
شاعر
The Houri and the Poet
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 34 - حور و شاعر در جواب نظم گوته موسوم به حور و شاعر
زندگی اور عمل(جرمنی کے مشہور شاعر ہائنا کی ایک نظم سوالات کے جواب میں )
Life and Action
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 35 - زندگی و عمل در جواب هاینه موسوم به «سؤالات»
ملک اللہ کا ہے
God’s Country
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 36 - الملک ﷲ
جنت
Paradise
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 39 - بهشت
کشمیر
Kashmir
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 40 - کشمیر
عشق
Love
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 41 - عشق
اللہ کی غلامی،مقام عبودیت
Humanity
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 42 - بندگی
غلامی
Slavery
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 43 - غلامی
تلوار کی پہیلی
The Riddle of the Sword
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 44 - چیستان شمشیر
جمہوریت
Democracy
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 45 - جمهوریت
یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے
To a Muslim Missionary in England
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 46 - به مبلغ اسلام در فرنگستان
Love
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 50 - عشق
تہذیب
Civilization
علامہ اقبال » پیام مشرق » افکار » بخش 51 - تهذیب
جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔
When spring made of the garden a veritable concert hall, the nightingale’s impassioned songs made buds open their eyes.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 1
میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔
Around my grave atood in a ring a bevy of fair mourners, all comely, winsome, lily-white.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 2
ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔
Our thought is constantly engaged in fashioning new gods. Released from one bond, it entangles itself in another.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 3
مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔
I have this odd complaint against my seeing eyes: When You unveil Yourself, my sight acts as a veil.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 4
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
This is my way of finding in this company a confidant: I sing ghazals and through them I convey the message of my Friend.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 5
اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔
Arise and waken notes aslumber in the organ’s keys. Teach singing birds fresh tunes.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 6
میں سلطان کے ملازمین کو ایک بہت ہی راز کی بات بتاتا ہوں کہ جی کو نہال کر دینے والے ایک بول سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے ۔
Let me tell a secret to the servants of the king: You can make the whole world yours with a moving song.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 7
آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔
Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 8
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔
I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 9
بہار کی ہوا نے گلستان کے اندر میخانہ بنا دیا ہے ۔ موسم بہار میں گلستان کو دیکھو تو میخانہ معلوم ہوتا ہے ۔ غنچے سے صراحی بن رہی ہے پھول کو پیالہ بنا رہی ہے یعنی غنچہ سبو ہے اور گل اس کا پیمانہ ۔
The breeze of spring makes of the garden a wine-tavern. It casts buds into jar-shapes, and makes of flowers cups.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 10
ہماری طرف سے اس ظالم محبوب کو سلام کہنا کہ تو نے ایک نگاہ سے تمنا کا پورا شہر پھونک ڈالا ۔
Convey my salutation to that fire-eating Turk who set aflame with one glance a city full of longing.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 11
تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔
You have made every thorn prick us and know our tale. You took us to the wilderness of madness, and let everybody know.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 12
مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔
Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 13
شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔
Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 14
تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔
I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 15
زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔
Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 16
آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے
From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 17
موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔
A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 18
پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔
A hundred nights of wailing, a hundred mornings of travail, a hundred fire-emitting sighs: The product? One poignant verse.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 19
جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔
Let surma brighten once again your magic-working eyes, and let my frenzied urge to sing about them be intensified.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 20
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔
The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 21
میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔
O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 22