صبح کی نرم و لطیف ہوا
The Morning Breeze
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: یزم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ز روی بحر و سر کوهسار می آیم
ولیک می نشناسم که از کجا خیزم
میں سمندر کے سینے اور پہاڑوں کی چوٹی پر سے آتی ہوں لیکن میں نہیں جانتی کہ میں کہاں سے اٹھتی ہوں ( میں اپنی اصل سے آگاہ نہیں ہوں ) ۔
Tripping over mountain-tops and skipping over seas, I come no one knows from where, and bring tidings of spring’s coming,
دهم به غمزده طایر پیام فصل بهار
ته نشیمن او سیم یاسمن ریزم
میں اداس پرندے کو بہار کی رت کا پیغام دیتی ہوں ۔ اس کے آشیانے کے نیچے چنبیلی کی چاندی بکھیر دیتی ہوں ۔
As it were, to the autumn-weary birds, lining their nests with the silver of white lilies.
به سبزه غلتم و بر شاخ لاله می پیچم
که رنگ و بو ز مسامات او بر انگیزم
میں سبزے کے ساتھ الجھتی ہوں اور گل لالہ کی شاخ پر لپٹتی ہوں تاکہ اس کے مسامات میں سے رنگ اور خوشبو نکالوں کہیں میرے ہلکوروں سے اس کی شاخ میں خم نہ آئے ۔ میں لالہ و گل کی پنکھڑیوں کو نرمی سے چھوتی ہوں ۔
I roll on the grass and frolic with the tulip-branches, coaxing smells and colours – flowers – out of them.
خمیده تا نشود شاخ او ز گردش من
به برگ لاله و گل نرم نرمک آویزم
Gently do I stroke the petals of the tulip and the rose, lest their stems should bend under my weight.
چو شاعری ز غم عشق در خروش آید
نفس نفس به نوا های او در آمیزم
غم عشق سے جب کوئی شاعر نالہ و فریاد کرتا ہے میں اس کے نغموں میں سانس بن کے سما جاتی ہوں (تاکہ ان میں دلکشی کا رنگ پیدا ہو جائے) ۔
When a poet breaks into song with the frenzy of love’s sorrow, with his breath I join my own.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور