صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 14 - پند باز با بچهٔ خویش

بخش 14 - پند باز با بچهٔ خویش

باز کی نصیحت اپنے بچے کو

The Falcon’s Advice to Its Youngster

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

تو دانی که بازان ز یک جوهرند

دل شیر دارند و مشت پرند

تو جانتا ہے کہ سارے باز ایک ہی جوہر سے ہیں ایک ہی جوہر ذاتی رکھتے ہیں ۔ مٹھی بھر ہیں مگر شیر کا دل رکھتے ہیں ۔

You know that in essence all falcons are one; a mere handful of feathers, but with the heart of a lion.

2

نکو شیوه و پخته تدبیر باش

جسور و غیور و کلان گیر باش

نیک اطوار اور پختہ تدبیر کرنے والا بن ۔ دلاور اور غیرت والا اور بڑے شکار پر جھپٹنے والا بن ۔

Conduct yourself well and let your strategy be well considered; be daring, maintain your dignity, and hunt big game.

3

میامیز با کبک و تورنگ و سار

مگر اینکه داری هوای شکار

تیتر اور چکور اور مینا کے ساتھ میل جول نہ رکھ سوائے اس کے کہ تو انکے شکار کی خواہش رکھتا ہو ۔

Do not mix with partridges, pheasants, and starlings; unless you want them as prey.

4

چه قومی فرو مایهٔ ترسناک

کند پاک منقار خود را به خاک

(پرندوں سی) یہ کیسی کم مایہ اور کمینہ قوم ہے جو اپنی چونچوں کو مٹی سے پاک کرتی ہے ۔

What a lowly, fearful lot they are: They wipe their beaks clean with dusts!

5

شد آن باشه نخچیر نخچیر خویش

که گیرد ز صید خود آئین و کیش

وہ باشہ آپ اپنے شکار کا شکار ہو گیا جو اپنے صید کے رنگ ڈھنگ اپنا لیتا ہے ۔

A falcon that copies the ways of his prey becomes prey himself.

6

بسا شکره افتاده بر روی خاک

شد از صحبت دانه چینان هلاک

کتنے ہی شکرے زمین پر گر گئے دانہ چگنے والوں (چڑیوں ) کی صحبت سے ہلاک ہو گئے ۔

Many a predator, descending to earth, has perished on associating with grain-eaters.

7

نگه دار خود را و خورسند زی

دلیر و درشت و تنومند زی

خود پر نگاہ رکھ اور خوش خوش زندہ رہ ۔ دلیری اور سختی اورشہزوری سے زندگی بسر کر ۔

Guard yourself and live the life of one of good cheer, brave, robust and rugged.

8

تن نرم و نازک به تیهو گذار

رگ سخت چون شاخ آهو بیار

نرم و نازک بدن ممولے کے لیے چھوڑ دے ۔ ہرن کے سینگ کی طرح مضبوط اعصاب پیدا کر ۔

Let the quail have his soft and delicate body; grow a vein hard as a deer’s horn.

9

نصیب جهان آنچه از خرمی است

ز سنگینی و محنت و پر دمی است

شادمانی کی قبیل سے جو کچھ کہ دنیا کا مقدر ہے محکمی اور محنت اور پردمی کی وجہ سے ہے ۔

All the joy in the world comes from hardship, toil, and fullness of breath.

10

چه خوش گفت فرزند خود را عقاب

که یک قطره خون بهتر از لعل ناب

عقاب نے اپنے بیٹے سے کیا خوب کہا کہ ایک بوند لہو اچھوتے خالص یاقوت (لعل) سے بہتر ہے ۔

What fine advice it was that the eagle gave its son: A single drop of blood is better than the purest wine!

11

مجو انجمن مثل آهو و میش

به خلوت گرا چون نیاکان خویش

ہرن اور بھیڑ کی طرح بزم (آرام کی زندگی) تلاش نہ کر ۔ اپنے بزرگوں (اسلاف) کے مانند تنہائی کی طرف میلان رکھ ۔

Do not seek out company like the deer or sheep, but go into seclusion as your ancestors did.

12

چنین یاد دارم ز بازان پیر

نشیمن بشاخ درختی مگیر

اسی لیے میں اپنے بزرگوں کی یہ نصیحت یاد رکھتا ہوں کہ کسی درخت کی شاخ پر بسیرا نہ کر ۔

I remember the old falcons’ advice: ‘Do not make your nest on the branch of a tree.’

13

کنامی نگیریم در باغ و کشت

که داریم در کوه و صحرا بهشت

ہم باغوں اور کھیتوں میں آشیانہ نہیں بناتے کیونکہ ہماری جنت پہاڑوں اور بیابانوں میں ہے ۔

We do not make nests in a garden or a field – we have our own paradise in mountains and deserts.

14

ز روی زمین دانه چیدن خطاست

که پهنای گردون خدا داد ماست

زمین پر سے دانہ چگنا غلط ہے کیونکہ خدا نے ہمیں آسمان کی وسعت عطا کر رکھی ہے ۔ تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ۔ ترے سامنے آسمان اور بھی ہیں ۔

We regard picking up grain from the ground as an error, for God has given us the vastness of the skies.

15

نجیبی که پا بر زمین سوده است

ز مرغ سرا سفله تر بوده است

وہ اصیل ہے جو مٹی پر پاؤں رکھتا ہے وہ پالتو مرغ سے بھی زیادہ نیچ ہو گیا ۔

If a bird of noble stock scrapes his feet on the ground, he becomes more despicable than a house bird.

16

پی شاهبازان بساط است سنگ

که بر سنگ رفتن کند تیز چنگ

پتھر شاہبازوں کے لیے غالیچہ ہے کہ پتھر پر چلنا پنجوں کو تیز کرتا ہے ۔

The kingly falcon uses rocks like a carpet walking on them sharpens his claws.

17

تو از زرد چشمان صحراستی

به گوهر چو سیمرغ والاستی

تو صحرا کے زرد چشموں میں سے ہے تو سیمرغ کی طرح عالی نسب ہے ۔

You are one of the yellow-eyed of the desert, and, like the simurgh, are of noble nature;

18

جوانی اصیلی که در روز جنگ

برد مردمک را ز چشم پلنگ

ایسا اصیل جوان جو جنگ کے دن چیتے کی آنکھ سے پتلی نکال لیتا ہے ۔

You are that noble youth who, on the day of battle, plucks out the pupil of the tiger’s eye.

19

به پرواز تو سطوت نوریان

به رگهای تو خون کافوریان

تیری اڑان میں فرشتوں کی سی شان و شوکت ہے ۔ تیری رگوں میں کافور یوں کا لہو ہے ۔

You fly with the majesty of angels, and in your veins is the blood of the kafuri falcon.

20

ته چرخ گردندهٔ کوژ پشت

بخور آنچه گیری ز نرم و درشت

اس گھومتے ہوئے کبڑے آسمان کے تلے نرم ہو یا درشت اپنا ہی شکار کیا ہوا کھا ۔

Under this humpbacked, revolving sky eat what you catch, whether it is soft or hard:

21

ز دست کسی طعمهٔ خود مگیر

نکو باش و پند نکویان پذیر

اپنا نوالہ کسی کے ہاتھ سے نہ لے نیک بن اور اچھوں کی نصیحت سن ۔ نوٹ: باز اور شاہین یہ دونوں اقبال کے محبوب پرندے ہیں ان پرندوں میں اقبال کے مرد مومن کی بعض صفات پائی جاتی ہیں ۔ چنانچہ اپنے ایک خط میں جو انھوں نے پروفیسر ظفر احمد صدیقی کو لکھا تھا ۔ بایں الفاظ اس بات کی وضاحت فرمائی تھی کہ شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے ۔ اس جانور میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں ۔ خوددار اور غیرت مند ہے کہ اور کسی ہاتھ کا مارا ہو شکار نہیں کھاتا ۔ بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا، بلند پرواز ہے ۔ خلوت پسند ہے اور تیز نگاہ ہے ۔

Do not take food from the hand of another; be good and take advice from the good.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز روی بحر و سر کوهسار می آیم

ولیک می نشناسم که از کجا خیزم

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 13 - نسیم صبح

اگلی نظم

شنیدم شبی در کتب خانهٔ من

به پروانه می گفت کرم کتابی

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 15 - کرم کتابی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور