صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 12 - سرود انجم

بخش 12 - سرود انجم

ستاروں کا گیت

Song of the Stars

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
Toggle stanza 1
1

هستی ما نظام ما

مستی ما خرام ما

2

گردش بی مقام ما

زندگی دوام ما

5

دور فلک بکام ما می نگریم و میرویم

ہماری ہستی، ہمارا نظام؛ ہماری مستی، ہمارا خرام ؛ ہماری گردش بے مقام، ہ ماری زندگیء دوام۔ ہماری خاطر دور فلک ، (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

Order is our very being; rapture for us is our moving our revolving with no stopping is for us life everlasting. Each of us is Fortune’s darling. So we watch things and move on.

بند 2
Toggle stanza 2
3

جلوه گه شهود را

بتکدهٔ نمود را

4

رزم نبود و بود را

کشکمش وجود را

10

عالم دیر و زود را می نگریم و میرویم

جلوہ گۂ شہود (دنیا) کو؛ اس بتکدۂ نمود (دنیا) کو؛ رزم نبود و بود کو؛ کشمکش وجود کو۔ عالم دیر و زود کو، دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

This world of appearances, temple-house of images, battle ground for all that is – all each other’s enemies. And Time’s odd priorities: We watch all this and move on.

بند 3
Toggle stanza 3
5

گرمی کار زار ها

خامی پخته کار ها

6

تاج و سریر و دارها

خواری شهریار ها

15

بازی روزگارها می نگریم و میرویم

کارزار کی گرمیاں ؛ پختہ کاروں کی کامیابیاں ؛ تاج و تخت و پھانسیاں؛ شہریاروں کی خواریاں۔ زمانے کے کھیل، (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

Nations’ armed hostilities, utter follies of the wise; crowns and thrones and stakes, the rise and fall of ruling dynasties. Time’s fantastic gimmickries – we watch all this and move on.

بند 4
Toggle stanza 4
7

خواجه ز سروری گذشت

بنده ز چاکری گذشت

8

زاری و قیصری گذشت

دور سکندری گذشت

20

شیوهٔ بتگری گذشت می نگریم و میرویم

خواجہ کی خواجگی گئی؛ بندے کی چاکری گئی؛ زاری و قیصری گئی؛ شان سکندری گئی۔ رسم بت گری گئی، (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

Masters are no longer masters; slaves no longer are in halters; gone are all the Gzars and Kaisers, all the conquering Alexanders. Gone too are the idol-makers. We watch all this and move on.

بند 5
Toggle stanza 5
9

خاک خموش و در خروش

سست نهاد و سخت کوش

10

گاه به بزم نا و نوش

گاه جنازه ئی بدوش

25

میر جهان و سفته گوش می نگریم و میرویم

انسان خاموش بھی اور (جوش و ) خروش میں بھی، کمزور بدن مگر سخت محنتی، کبھی عیش و عشرت میں ، کبھی کندھوں پر جنازہ اٹھائے ۔ حکمران و غلام (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

Silent and uproarious, lazy and industrious, sometimes quite hilarious, and sometimes lugubrious. Man, earth-lord, is slave to us. We watch his ways and move on.

بند 6
Toggle stanza 6
11

تو به طلسم چون و چند

عقل تو در گشاد و بند

12

مثل غزاله در کمند

زار و زبون و دردمند

30

ما به نشیمن بلند می نگریم و میرویم

تو 'کیسے' اور 'کتنے' کے جادو میں گرفتار ہے؛ تیری زار و زبون و دردمند عقل؛ کمند میں گرفتار ہرن کی مانند حالات کے بند کھولنے میں لگی رہتی ہے۔ اپنے ہی نشیمن بلند سے، (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

You caught in the magic circle of a world that is a riddle, willing victim of a double intellect, itself a puzzle. We high up, free from all trouble: We watch all this and move on.

بند 7
Toggle stanza 7
13

پرده چرا ظهور چیست؟

اصل ظلام و نور چیست؟

14

چشم و دل و شعور چیست؟

فطرت ناصبور چیست؟

35

این همه نزد و دور چیست می نگریم و میرویم

(حقیقت کا) پردہ ہے کیوں؟ ظہور کیا؟ اصل سیاہ و نور ہے کیا؟ چشم و دل و شعور ہے کیا؟ (انسان کی) فطرت نا صبور ہے کیا؟ یہ سب نزد و دور ہے کیا؟ دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

Why this veiled and why that veilless? What is light and what is darkness? Eye and heart and conscious process? Why is human nature restless? What is distance and what nearness? We think all this and move on.

بند 8
Toggle stanza 8
15

بیش تو نزد ما کمی

سال تو پیش ما دمی

16

ای بکنار تو یمی

ساخته ئی به شبنمی

40

ما به تلاش عالمی می نگریم و میرویم

جسے تو زیادہ مدت سمجھتا ہے، وہ ہمارے ہاں کم ہے؛ تیرے سال ہمارے لیے ایک لمحہ ہیں؛ تیرے پہلو میں (دل کا) سمندر موجود ہے؛ مگر تو شبنم (دنیا ) پر راضی ہو گیا ہے۔ ہم (ایک اور) عالم کی تلاش میں (سب کچھ) دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔

What is much for you for us is, little: for us your year passes, in an instant. O you with seas in your bosom, why do you seize dewdrops? Conquer these vast spaces, where to new worlds we move on.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نگاهم راز دار هفت و چار است

گرفتار کمندم روزگار است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 11 - محاورهٔ علم و عشق

اگلی نظم

ز روی بحر و سر کوهسار می آیم

ولیک می نشناسم که از کجا خیزم

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 13 - نسیم صبح

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور