صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 11 - محاورهٔ علم و عشق

بخش 11 - محاورهٔ علم و عشق

عشق

A Dialogue Between Knowledge and Love

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
بند 1
علم:

علم

Knowledge

Toggle stanza 1
1

نگاهم راز دار هفت و چار است

گرفتار کمندم روزگار است

علم میری نگاہ ساتوں ولایتوں (ساری کائنات) اور چاروں عناصر (آگ ، پانی، مٹی، ہوا) یعنی زمین و آسمان دونوں کی رازدار ہے ۔ زمانہ میرے پھندے میں پھنسا ہوا ہے ۔

My eyes have witnessed the secrets of the seven and the four, and with my lasso I have captured the world. I am an eye, and when I was opened I turned this way: Why should I bother about the other side of the heavens? A hundred songs flow from my instrument; I bring to market every secret I know.

2

جهان بینم به این سو باز کردند

مرا با آنسوی گردون چه کار است

خداوند نے میری آنکھیں اس رخ پہ کھولیں مجھے آسمان کے ادھر سے کیا کام ہے( میں آسمان کے نیچے جو جہان ہے اس سے باخبر ہوں ) ۔

3

چکد صد نغمه از سازی که دارم

به بازار افکنم رازی که دارم

میرے ساز سے سینکڑوں نغمے پھوٹتے ہیں ۔ میں اپنا ہر راز بازار میں پھینک آتا ہوں (عام کر دیتا ہوں ) ۔

بند 2
عشق:

عشق

Love

Toggle stanza 2
4

ز افسون تو دریا شعله زار است

هوا آتش گذار و زهردار است

ترے شعبدے سے دریا شعلہ زار ہے (دریا کے پانی میں شعلہ پیدا ہوتا ہے) ۔ ہوا آگ چھوڑتی ہے اور زہریلی ہے ۔ (اشارہ ہے ان بحری جہازون اور بم کے گولوں کی طرف جن کی بدولت پانی سے شعلے بلند ہوئے اور ہوا زہریلی ہو گئی) ۔

Because of the spell you have cast the sea is in flames, the air spews fire and is filled with poison. When you and I were friends, you were a light; but you broke with me, and your light became a fire.

5

چو با من یار بودی نور بودی

بریدی از من و نور تو نار است

تو جب میرا دوست تھا تو نور تھا ۔ مجھ سے الگ ہوا تو اب تیرا نور بھی نار بن گیا ہے(تیرا وجود مفید ہونے کے بجائے مضر ہو گیا ۔ تباہ کن آلات حرب علم ہی کی بدولت عالم وجود میں آئے) ۔

Love: Because of the spell you have cast the sea is in flames, the air spews fire and is filled with poison. When you and I were friends, you were a light; but you broke with me, and your light became a fire.

6

بخلوت خانهٔ لاهوت زادی

ولیکن در نخ شیطان فتادی

تو نے خلوت خانہ لاہوت میں جنم لیا (جس کا تو آج منکر ہے) ۔ لیکن تو شیطان کے پھندے میں پھنس گیا ۔

You were born in the innermost sanctum of the Divinity, but then fell into Satan’s trap.

7

بیا این خاکدان را گلستان ساز

جهان پیر را دیگر جوان ساز

آ اس خاکدان دنیا کو گلزار بنا دے ۔ بوڑھی دنیا کو پھر سے جوان کر دے ۔

Come; turn this earthly world into a garden, and make the old world young again.

8

بیا یک ذره از درد دلم گیر

ته گردون بهشت جاودان ساز

آ میرے درد دل سے ایک ذرہ لے آسمان تلے ہمیشہ کی جنت بنا دے ۔

Come! Take just a little of my heart’s solicitude, and build, under the heavens, an everlasting paradise.

9

ز روز آفرینش همدم استیم

همان یک نغمه را زیر و بم استیم

اے علم! اس حقیقت کو فراموش مت کر کہ ہم ازل کے دن سے دونوں ساتھی ہیں ۔ ہم ایک ہی نغمے کا اتار چڑھاوَ ہیں ۔ علم بے عشق اور عشق بے علم دونوں غیر مفید ہیں ۔ اس تصور کا مرشد رومی کا یہ شعر ہے ۔ علم را بر تن زنی مارے بود علم را بر دل زنی یارے بود

We have been on intimate terms since the day of creation, and are the high and low notes of the same song.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شبی زار نالید ابر بهار

که این زندگی گریهٔ پیهم است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 10 - زندگی

اگلی نظم

هستی ما نظام ما

مستی ما خرام ما

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 12 - سرود انجم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور