زندگی
Life
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)
قافیہ: ماست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
شبی زار نالید ابر بهار
که این زندگی گریهٔ پیهم است
ایک رات بہار کی گھٹا رو رو کے پکاری (شاعر نے بارش کو گریہ ابر سے تعبیر کیا ہے) کہ زندگی لگاتار رونا ہے (یہاں دکھ ہی دکھ ہیں ) ۔
One night the spring cloud tearfully complained: ‘A ceaseless shedding of tears is this life.’
درخشید برق سبک سیر و گفت
خطا کرده ئی خندهٔ یکدم است
تیز رفتار بجلی چمکی اور بولی (شاعر نے بجلی کی چمک کو خندہ سے تعبیر کیا ہے) تو نے غلط سمجھا یہ تو پل بھر کی ہنسی ہے ۔
But lightning, flashing quickly, intervened: ‘O no, it is a momentary laugh.’
ندانم به گلشن که برد این خبر
سخنها میان گل و شبنم است
میں نہیں جانتا یہ خبر باغ میں کون لے گیا ۔ پھول اور شبنم کے بیچ گفتگو چھڑی ہوئی ہے ۔ (پھول کہتا ہے زندگی ہنسی ہے شبنم کہتی ہے نہیں یہ رونا ہے)نوٹ: اقبال نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ زندگی کی ماہیت کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ ہر شخص زندگی کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے ۔
Who bore this to the garden I do not know; but there is talk between the rose and dew.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور