ستاروں کے خیالات
Reflections of the Stars
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: مثنوی
شنیدم کوکبی با کوکبی گفت
که در بحریم و پیدا ساحلی نیست
میں نے ایک ستارے کو دوسرے سے یہ کہتے سنا کہ ہم ایسے سمندر میں ہیں جس کا کنارہ اوجھل ہے ۔
I hear a star said to another star: ‘We are adrift on a sea with no shore.
سفر اندر سرشت ما نهادند
ولی این کاروان را منزلی نیست
خدا نے ہماری سرشت میں مسافرت رکھی لیکن اس قافلے کی کوئی منزل نہیں ۔
We were created with a wander-lust; our caravan will not stop any more.
اگر انجم همانستی که بود است
ازین دیرینه تابی ها چه سود است
اگر ستارے جیسے تھے ویسے ہی ہیں تو اس سدا کی چمک دمک کا کیا حاصل ہے ۔
‘If we still are what we were long ago, then what use is this shining on and on?
گرفتار کمند روزگاریم
خوشا آنکس که محروم وجود است
ہم زمانے کی کمند میں جکڑے ہوئے ہیں اچھا ہے وہ جو وجود سے محروم ہے ۔
We are all of us captives in Time’s net. Lucky are they who have not yet been born.’
کس این بار گران را برنتابد
ز بود ما نبود جاودان به
یہ بوجھ کوئی نہیں ڈھو سکتا ہمارے ہونے سے ہمیشہ کا نہ ہونا اچھا ہے ۔
‘No one can bear this heavy load for long. Far better were it never to have been.
فضای نیلگونم خوش نیاید
ز اوجش پستی آن خاکدان به
مجھے یہ آسمانی فضا خوش نہیں آتی اس کی بلندی سے اس دنیا کی پستی اچھی ہے ۔
I do not like this azure space at all: That nether world presents a fairer scene.’
خنک انسان که جانش بیقرار است
سوار راهوار روزگار است
انسان کے کیا کہنے کہ جس کی جان کو کہیں قرار نہیں ہے وہ زمانے کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہے ۔
‘How happy is man with his restless soul, so gaily riding on the steed of Time.
قبای زندگی بر قامتش راست
که او نو آفرین و تازه کار است
زندگی کی قبا اس کے بدن پر موزون ہے ۔ کیونکہ وہ نت نئی چیزیں گھڑنے والا اور تازہ کار (نئی دریافتیں کرتا) ہے ۔ اس نظم میں اقبال نے ستاروں کی زبان سے حضرت انسان کی عظمت اور اس کے اشرف المخلوقات ہونے کو واضح کیا ہے کہ اس میں تخلیق کی قوت پائی جاتی ہے اور اس وصف میں کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہیں کر سکتی ۔
Life is a garment tailor-made for him, because he is a maker of new things.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور