صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 3 - هلال عید

بخش 3 - هلال عید

ہلال عید

The New Moon of Eid

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: امینهادهاند

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

نتوان ز چشم شوق رمید ای هلال عید

از صد نگه براه تو دامی نهاده اند

اے ہلال عید! تو ہماری چشم شوق سے بھاگ نہیں سکتا ۔ ہم نے تیرے راستے میں سینکڑوں نگاہوں کا جال بچھا رکھا ہے ۔

You cannot manage to evade the eager view of people waiting for a sight of you. A thousand glances have conspired to weave a net to catch you in.

2

بر خود نظر گشا ز تهی دامنی مرنج

در سینهٔ تو ماه تمامی نهاده اند

خود پر آنکھ کھول ، اپنے خالی دامن پر افسوس نہ کر ۔ پہلے دن کا چاند بڑا باریک ہوتا ہے رفتہ رفتہ وہ پورا چاند بن جاتا ہے ۔ تیرے سینے کے اندر پورا چاند رکھ دیا گیا ہے ۔ نوٹ: کارکنان قضا و قدر نے ہر انسان میں ماہ تمام یعنی مرد کامل بننے کی استعداد مخفی کر دی ہے جس نے اپنے اندر کو تلاش کیا وہ چودھویں کے چاند کی طرح مرد کامل بن گیا ۔

Open your eyes to yourself. Do not grieve that you are a bare outline. Within you lies a real full moon.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ایکه از خمخانه فطرت بجامم ریختی

ز آتش صهبای من بگداز مینای مرا

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 2 - دعا

اگلی نظم

نعره زد عشق که خونین‌جگری پیدا شد

حُسن لرزید که صاحب‌نظری پیدا شد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 4 - تسخیر فطرت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور