ہلال عید
The New Moon of Eid
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
قافیہ: امینهادهاند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
نتوان ز چشم شوق رمید ای هلال عید
از صد نگه براه تو دامی نهاده اند
اے ہلال عید! تو ہماری چشم شوق سے بھاگ نہیں سکتا ۔ ہم نے تیرے راستے میں سینکڑوں نگاہوں کا جال بچھا رکھا ہے ۔
You cannot manage to evade the eager view of people waiting for a sight of you. A thousand glances have conspired to weave a net to catch you in.
بر خود نظر گشا ز تهی دامنی مرنج
در سینهٔ تو ماه تمامی نهاده اند
خود پر آنکھ کھول ، اپنے خالی دامن پر افسوس نہ کر ۔ پہلے دن کا چاند بڑا باریک ہوتا ہے رفتہ رفتہ وہ پورا چاند بن جاتا ہے ۔ تیرے سینے کے اندر پورا چاند رکھ دیا گیا ہے ۔ نوٹ: کارکنان قضا و قدر نے ہر انسان میں ماہ تمام یعنی مرد کامل بننے کی استعداد مخفی کر دی ہے جس نے اپنے اندر کو تلاش کیا وہ چودھویں کے چاند کی طرح مرد کامل بن گیا ۔
Open your eyes to yourself. Do not grieve that you are a bare outline. Within you lies a real full moon.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور