دعا
A Prayer
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ایمرا
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ایکه از خمخانه فطرت بجامم ریختی
ز آتش صهبای من بگداز مینای مرا
اے کہ (وہ ذات) تو نے فطرت کے میخانے سے میرا پیالہ بھرا ۔ میری شراب کی آگ سے میرا شیشہ پگھلا دے ۔ مراد ہے میرے اندر وہ گداز پیدا کر دے کہ تیرے سوا ہر شے کو بھول جاؤں ۔
O You who filled my glass with wine galore from Nature’s own wine-store, see to it that my glass is melted by this fire sent from Your sky.
عشق را سرمایه ساز از گرمی فریاد من
شعلهٔ بیباک گردان خاک سینای مرا
میری فریاد کی گرمی کو عشق کا سرمایہ بنا ۔ میری سیناے وجود کی مٹی کو بھڑکتا شعلہ بنا دے تا کہ میں اس سے اپنے نفس اور غیر اللہ کے خس و خاشاک کو جلا دوں ۔
O let my spirited lament provide Love with its wealth of pride. Would that the dust of my Sinai became an all-consuming flame!
چون بمیرم از غبار من چراغ لاله ساز
تازه کن داغ مرا سوزان بصحرای مرا
جب مروں تو میری خاک سے گل لالہ کا چراغ بنا ۔ میرا داغ پھر سے تازہ کر، میرے صحرا میں ہوا ۔ مراد یہ ہے میرے عشق کی تاثیر کو میری زندگی کے بعد قائم رکھنا تا کہ لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں ۔
When I die, let my ashes form a bed where tulips will be bred, so that my passion’s wounds, revived, may shine in tulips’ hearts again.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور