صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 4 - تسخیر فطرت

بخش 4 - تسخیر فطرت

آدم از بہشت بیروں آمدہ می گوید(آدم جنت سے نکل کر کہتا ہے) ۔

Conquest of Nature

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
میلاد آدم

The Birth of Man:

Toggle stanza 1
1

نعره زد عشق که خونین‌جگری پیدا شد

حُسن لرزید که صاحب‌نظری پیدا شد

عشق نے نعرہ لگایا کہ ایک خوش جگر پیدا ہو گیا ۔ حسن لرز اٹھا کہ ایک صاحب نظر آ گیا ۔

‘Here’s one with a bleeding heart’, rang abroad Love’s joyous cry. Beauty trembled and said, ‘Look! Here’s one with a seeing eye.’

2

فطرت آشفت که از خاک جهانِ مجبور

خودگَری، خودشکنی، خودنِگری پیدا شد

فطرت گھبرائی کہ جبر کی ماری دنیا کی خا ک سے خود کو بنانے ، خود کو توڑنے خود کو جاننے والا پیدا ہو گیا ۔ خود کو بنانے والا مظہر صفات الہیہ پیدا کر کے نائب خدا اور خلیفتہ الارض ہونے کے اعتبار سے اور خود کو توڑنے والا اپنے اندر کے بت خانہ نفس کو توڑنے کے لحاظ سے اور خود کو دیکھنے والا اپنی معرفت حاصل کرنے کے پس منظر میں ۔

Nature was surprised to see from its passive dust appear, all of a sudden, one who was of himself maker. breaker, seer.

3

خبری رفت ز گردون به شبستان ازل

حذر ای پردگیان پرده‌دری پیدا شد

آسمان سے ازل کی خلوت گاہ میں خبر پہنچی ۔ اے پردہ نشینوں ! ہوشیار ہو جاوَ پردہ اٹھانے والا آ گیا ۔

Whispers traveled all the way from Eden to Night’s dark abode: ‘Look out, veiled ones; here comes one who will tear up every shroud.’

4

آرزو بیخبر از خویش به آغوش حیات

چشم وا کرد و جهان دگری پیدا شد

آرزو زندگی کی آغوش میں اپنی سدھ بدھ بھولی ہوئی تھی اس نے آنکھ کھولی اور ایک اور ہی عالم پیدا ہو گیا ۔

Not yet self-aware, desire lay curled up in Being’s lap. Opening its eyes, it saw before it a new world unwrap.

5

زندگی گفت که در خاک تپیدم همه عمر

تا ازین گنبد دیرینه دری پیدا شد

زندگی نے کہا کہ میں تمام عمر خاک میں تڑپتی رہی تب کہیں جا کر اس پرانے گنبد سے ایک دروازہ نکلا ۔ نوٹ: زندگی مختلف شکلوں میں پہلے بھی تھی لیکن آدم نے اسے شعوری طور پر ظہور کیا ۔ زندگی کو پہلی بار اپنا شعور ملا ۔

Life exclaimed, ‘O happy day! I writhed in dust aeon after aeon. Now has opened at long last a door out of this ancient prison.’

بند 2
انکار ابلیس

Satan’s Refusal:

Toggle stanza 2
6

نوری نادان نیَم، سجده به آدم برم

او به نهاد است خاک من به نژاد آذرم

میں نادان فرشتہ نہیں کہ آدم کو سجدہ کروں وہ اصلاً خاک ہے اور میں آگ سے ہوں ۔

I am no creature of mere light that I should bow to man. He is a base-born thing of dust, and I am of fire born.

7

می‌تپد از سوز من، خون رگ کائنات

من به دوِ صرصرم، من به غُوِ تندرم

میری حرارت سے کائنات کی رگوں میں لہو جوش مارتا ہے ۔ آندھی کے تند جھکڑوں کے پیچھے میں ہوں ۔ بجلی کی کڑک بادلوں کی گرج کے پیچھے میں ہوں ۔ مراد ہے اگر میں آدم کو نہ بہکاتا تو آدم سوائے اللہ اللہ پکارنے کے اور کیا کرتا ۔ یہ سارے ہنگامے جن سے کائنات میں رونق ہے آد م کو عطا کردہ مرے افکار جذبات کی وجہ سے ہی ہے ۔

The blood in the veins of the world is lit up by my flame. The tearing speed of wind is mine, and mine is thunder’s boom.

8

رابطهٔ سالمات، ضابطهٔ امّهات

سوزم و سازی دهم، آتش میناگرم

سالمات کے درمیان تال میل (مجھ سے ہے) عناصر میں کارفرما قانون (میری بدولت ہے) ۔ جلاتا ہوں اور بناتا ہوں ۔ میں آگ ہوں شیشہ ڈھالنے والی ۔

I forge the atoms’ harmony, the elements’ concourse. I burn, but also shape: I am the fire that makes the glass.

9

ساختهٔ خویش را، در شکنم ریز ریز

تا ز غبار کهن ، پیکر نو آورم

اپنے ہی بنائے ہوئے کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہوں تا کہ پرانی مٹی سے نیا پیکر تراشوں (کائنات میں جتنا بھی حسن، دلکشی، ہنگامہ اور لذت ہے وہ میری وجہ سے ہے) ۔

The things I make I break to bits and scatter in the dust, in order to create new forms from fragments of those lost.

10

از زُوِ من موجهٔ چرخِ سکون‌ناپذیر

نقش‌گَرِ روزگار ، تاب و تب جوهرم

کہیں ٹھہراوَ نہ پکڑنے والا آسمان میرے دریا کی ایک لہر یا موج ہے ۔ میں زمانے کے نقوش بناتا ہوں ۔ میں اسکے جوہر کو تب و تاب عطا کرتا ہوں ۔

This restlessly revolving sky is a wave of my sea; and in my throbbing substance dwells the shape of things to be.

11

پیکر انجم ز تو، گردش انجم ز من

جان به جهان اندرم ، زندگی مضمرم

ستاروں کی گردش مجھ سے ہے ۔ میں کائنات کے اندر جان بن کر سمایا ہوا ہوں ۔ میں ہر شے میں چھپی ہوئی زندگی ہوں ۔

The stars’ bodies were made by You; I am their motive force. I am the substances of the world. I am life’s primal source.

12

تو به بدن جان دهی، شور به جان من دهم

تو به سکون ره زنی، من به تپش رهبرم

تو بدن کو جان دیتا ہے ۔ میں جان میں شور (ہلچل پیدا کرتا ہوں ) ۔ تو سکون کی طرف بے راہ کرتا ہے میں تڑپ اور حرارت دے کر اس کی راہبری کرتا ہوں ۔

The body draws its soul from you. But I arouse the soul. While You waylay with blissful peace, I lead with action’s call.

13

من ز تنک مایگان گدیه نکردم سجود

قاهر بی‌دوزخم، داور بی‌محشرم

میں ان کم ظرفوں (فرشتوں ) سے سجدوں کی گدائی نہیں کرتا ۔ میں قاہر ہوں مگر بغیر دوزخ کے ، میں منصف ہوں مگر بغیر محشر کے (ابلیس نے اللہ تعالیٰ پر طنز کی ہے) ۔

I never begged obedience of slaves who always pray. I rule without a hell: I judge without a Judgement Day.

14

آدم خاکی‌نهاد، دون‌نظر و کم‌سواد

زاد در آغوش تو، پیر شود در برم

خاک زاد آدم، کم نظر اور جاہل ہے (اس میں پہچان کی عقل نہیں ہے) ۔ تیری آغوش میں پیدا ہوا مگر بوڑھا میری گود میں ہوتا ہے(مراد ساری عمر میرے اشارے پر چلتا ہے) ۔

That low-born creature of earth, man, of mean intelligence, though born in Your lap, will grow old under my vigilance.

بند 3
اغوای آدم

The Temptation of Adam:

Toggle stanza 3
15

زندگی سوز و ساز به ز سکون دوام

فاخته شاهین شود از تپش زیر دام

دکھ سکھ سے بھری ہوئی رواں دواں زندگی ہمیشہ کے سکون (ٹھہراوَ) سے بہتر ہے ۔ جال میں تڑپنے پھڑکنے سے فاختہ بھی جدوجہد کی حرارت کی وجہ سے شاہین بن جاتی ہے ۔

A life of struggle, strain and stress is better than eternal rest. When a dove strains hard at its net, an eagle’s heart beats in its breast.

16

هیچ نیاید ز تو غیر سجود نیاز

خیز چو سرو بلند، ای به عمل نرم‌گام

یہاں جنت میں سوائے نیاز مندانہ سجدوں کے تجھ سے اور کچھ بن نہیں پڑتا ۔ اے سست عمل سروبلند کی طرح اٹھ کھڑا ہو (اور عمل اختیار کر) ۔

O you are fit for nothing but abject obeisance like a slave. Like a tall cypress stand erect, O you who do not act but crave.

17

کوثر و تسنیم برد، از تو نشاط عمل

گیر ز مینای تاک بادهٔ آئینه‌فام

کوثر و تسنیم نے تجھ سے سرگرم عمل ہونے کا لطف ختم کر دیا ہے ۔ اٹھ اور انگور کی صراحی سے آئینے کی طرح شفاف شراب حاصل کر ۔

These streams of milk and honey have deprived you of the strength to act. Come take a hearty draught of wine from the cup of the vine direct.

18

زشت و نکو زادهٔ وهم خداوند توست

لذت کردار گیر، گام بنه، جوی کام

نیکی اور بدی تیرے خداوند کے وہم کی پیداوار ہے ۔ عمل کے مزے لوٹ، قدم بڑھا،اپنی مراد پا لے ۔

Good and evil, virtue and sin, are myths created by your Lord. Come taste the joy of action and go forth to seek your due reward.

19

خیز که بنمایمت، مملکت تازه‌ای

چشم جهان‌بین گشا، بهر تماشا خرام

اٹھ کہ میں تجھے ایک نئی سلطنت دکھاؤں ۔ دنیا کو دیکھنے والی آنکھ کھول اور اس کے نظاروں میں سیر کر ۔

Arise, for I will show to you the prospect of a whole new world. Unveil your eyes and look around; go forth and see it all unfurled.

20

قطرهٔ بیمایه‌ای، گوهر تابنده شو

از سر گردون بیفت، گیر به دریا مقام

تو (ابھی) ایک بے قیمت قطرہ ہے ۔ چمکدار موتی بن جا ۔ آسمان (بہشت) پر سے اتر، سمندر میں ٹھکانا پکڑ (قطرہ دریا میں گر کر موتی بن جاتا ہے) ۔

You are a tiny, worthless drop; become a shining, priceless pearl. Descend from Eden’s halcyon heights and plunge into the life-stream’s swirl.

21

تیغ درخشنده‌ای، جانِ جهانی گسل

جوهر خود را نما، آی برون از نیام

تو چمکتی ہوئی تلوار ہے دنیا کا جی دھلا دے ۔ اپنا جوہر دکھا نیام سے باہر نکل ۔

You are a brightly shining sword go dip into Creation’s heart. To prove your mettle issue forth and from your scabbard’s bosom part.

22

بازوی شاهین گشا، خون تذروان بریز

مرگ بود باز را زیستن اندر کنام

شاہین کی طرح بازو کھول چکوروں کا لہو بہا دے ۔ گھونسلے میں بیٹھ رہنا باز کے لیے موت ہے (زندگی نہیں ہے) ۔

Unfold your eagle-wings and soar and shed the blood of timid quails. O for an eagle it is death to live within its eyrie’ walls.

23

تو نشناسی هنوز شوق بمیرد ز وصل

چیست حیات دوام؟ سوختن ناتمام

تو ابھی نہیں جانتا وصال سے شوق مردہ ہو جاتا ہے ۔ ہمیشہ کی زندگی کیا ہے (ہجر کی آگ) جلتے بلکہ سلگتے رہنا ۔ نوٹ: یہاں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ابلیس کا کام تو بہکانہ اور ورغلانا ہے پھرا س نے آدم پر اس صداقت کو کیوں ظاہر کیا اس کا جواب یہ ہے کہ راست گوئی کے بغیر ابلیس اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا تھا اس لیے اس نے آدم کو بہکانے کے لیے فلسفیانہ قسم کا سچ بول دیا ۔

You have not learnt this lesson yet; fulfilment dooms desire to death. You know what is eternal life? To burn anew with each new breath.

بند 4
آدم از بهشت بیرون آمده می‌گوید:

آدم بہشت سے باہر نکل کر کہتا ہے۔

Adam Sings on His Exit from Paradise:

Toggle stanza 4
24

چه خوشست زندگی را همه سوز و ساز کردن

دل کوه و دشت و صحرا به دمی گداز کردن

ساری زند گی کو سوز و ساز بنا لینا کیا خوب ہے، کوہ و دشت و صحرا کے دل کو ایک لحظہ میں نرم کر دینا ، کیا بات ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

O what a joy it is to make one’s life a constant, ardent glow! And with one’s breath make desert, hill and plain like molten metal flow!

25

ز قفس دری گشادن به فضای گلستانی

ره آسمان نوردن به ستاره راز کردن

گلستان کے بہار بھرے پھیلاوَ کی طرف قفس کا دروازہ کھولنا (قید سے رہائی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا کتنا اچھا ہے) ۔ آسمان کا راستہ طے کرنا ستاروں سے رازو نیاز کی باتیں کرنا (کتنا اچھا ہے) ۔

Open a door out of one’s cage onto the garden’s vast expanse! Roam in the spaces of the sky, and tell the stars one’s weal and woe.

26

به گداز‌های پنهان به نیازهای پیدا

نظری اداشناسی به حریم ناز کردن

چھپے ہوئے گداز کے ساتھ، کھلی ہوئی بندگی کے ساتھ بے نیازی کی بارگاہ میں ایک ادا شناس نگاہ کرنا ۔

With secret yearnings, open prayers, cast looks on Beauty’s seraglio!

27

گهی جز یکی ندیدن به هجوم لاله‌زاری

گهی خار نیش‌زن را به گل امتیاز کردن

کبھی باغ کے رنگارنگ ہجوم میں سوائے وحدت کے ا ور کچھ نہ دیکھنا کبھی چبھنے والے کانٹے کو (نرم) پھول سے الگ جاننا (امتیاز کرنا) ۔

At times to see a single flower in the riot of a whole field, at other times tell hurtful thorns from roses that in their midst blow!

28

همه سوز ناتمامم همه درد آرزویم

به گمان دهم یقین را که شهید جستجویم

میں سارے کا سارا (سر تا پا) ناتمام ہوں ، درد آرزو ہوں ۔ میں یقین دے کر گمان لیتا ہوں کیونکہ میں جستجو پر جان دیتا ہوں ۔

I burn in a slow-burning fire; I am an agonised desire. I give up faith for living doubt; I seek, I question, I aspire.

بند 5
صبح قیامت آدم در حضور باری

قیامت کی صبح آدم اللہ تعالیٰ کے حضور میں۔

Toggle stanza 5
29

ای که ز خورشیدِ تو، کوکبِ جان مستنیر

از دلم افروختی شمعِ جهانِ ضریر

اے باری تعالیٰ تیرے سورج سے ہماری روح کا ستارہ منور ہے ۔ میرے دل سے تو نے گھپ اندھیری دنیا کا چراغ روشن کیا ۔

O You, who are the sun from whom the satellite of soul draws light, you have made of my heart a lamp that keeps Your whole Creation bright.

30

ریخت هنرهای من بحر به یک نای آب

تیشهٔ من آورد از جگر خاره شیر

میرے ہنر نے دریا کو ایک نہر میں ڈال دیا ۔ میرا تیشہ پتھر کے جگر سے دودھ نکال لایا (پہاڑ سے دودھ کی نہر نکالی) ۔

I took Your ocean and poured it into canals made by my art. My pickaxe rought forth streams of milk and honey from the mountain’s heart.

31

زهره گرفتار من، ماه پرستار من

عقل کلان کار من، بهر جهان دار و گیر

زہرہ میرا گرفتار، چاند میرا پرستار ہے ۔ بڑے بڑے معرکے مارنے والی میری عقل کائنات کی فاتح ہے ۔

The Moon is my devoted slave, and Venus is my worshipper. My enterprising intellect has made me Nature’s conqueror.

32

من به زمین در شدم من به فلک بر شدم

بستهٔ جادوی من ذره و مهر منیر

میں زمین کی تہہ میں اترا، میں آسمان کے اوپر چڑھا ۔ ذرے سے لے کر چمکتے ہوئے سورج تک سبھی میرے جادو میں گرفتار ہیں ۔

I delved into the depths of earth, and I soared the heights of the sky, the mighty sun and tiny motes are all thralls of my sorcery.

33

گرچه فسونش مرا برد ز راه صواب

از غلطم در گذر عذر گناهم پذیر

گو کہ اس (شیطان) کے جادو نے مجھے سیدھے راستے سے بھٹکا دیا تو میری خطا بخش دے میرا عذر گناہ قبول کر لے ۔

I was deflected from the path of virtue by the Devil’s fraud. Forgive my error and accept my humble penitence, O God:

34

رام نگردد جهان تا نه فسونش خوریم

جز به کمند نیاز ناز نگردد اسیر

جب تک اس کا فریب نہ کھایا جائے یہ دنیا رام نہیں ہوتی عاجزی کے پھندے کے بغیر حسن مغرور قابو میں نہیں آتا ۔

One cannot subjugate the world unless one yields to its allure; for Beauty’s wild pride is not tamed until it falls into Love’s snare.

35

تا شود از آه گرم این بت سنگین گداز

بستن زنار او بود مرا ناگزیر

کیونکہ یہ پتھریلا بت آہ گرم سے پگھل جاتا ہے ۔ (لہذا) میرے لیے اس کی زنار گلے میں ڈالنا ضروری تھا ۔

In order to melt the heart of this stone god with a fervid sigh, I had to wear his sacred thread as proof of my idolatry.

36

عقل به دام آورد فطرت چالاک را

اهرمن شعله‌زاد سجده کند خاک را

میری عقل ابلیس کی فطرت چالاک کو اپنے دام میں لے آئی ۔ (پھر) ناری شیطان نے خاک کو سجدہ کیا ۔

Though Nature is ingenious, yet to intellect it falls a prey, and Ahriman, the fireborn god, kneels down and worships mortal clay.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نتوان ز چشم شوق رمید ای هلال عید

از صد نگه براه تو دامی نهاده اند

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 3 - هلال عید

اگلی نظم

حوری به کنج گلشن جنت تپید و گفت

ما را کسی ز آنسوی گردون خبر نداد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 5 - بوی گل

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور