صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 5 - بوی گل

بخش 5 - بوی گل

پھول کی خوشبو

The Perfume of the Flower

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: د

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

حوری به کنج گلشن جنت تپید و گفت

ما را کسی ز آنسوی گردون خبر نداد

جنت کے پھولوں بھرے چمن کے ایک گوشے میں ایک حور تڑپ تڑپ کر کہتی تھی ۔ ہمیں کسی نے آسمان کی اس طرح کی خبر نہیں دی (یعنی دنیا کی خبر نہ دی کہ کیا ہے) ۔

Bored in a coign of the Garden of Eden, a houri woefully cried: ‘Nobody told us of the things that happen on Eden’s nether side.

2

ناید بفهم من سحر و شام و روزو شب

عقلم ربود این که بگویند مرد و زاد

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ صبح و شام اور دن رات کیا ہے ۔ یہ سن سن کر میری تو عقل گم ہو گئی کہ فلاں مر گیا فلاں پیدا ہو گیا ۔ ( میں سنتی ہوں کہ دنیا ایسی جگہ ہے جہاں صبح و شام بھی ہوتی ہے اور رات دن بھی ہوتا ہے ۔ میں یہ تبدیلی اوقات کو سمجھ نہیں سکتی اور نہ یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں لوگ پیدا ہوتے ہیں پھر مر جاتے ہیں ۔

‘What are morning, evening, night and day? They are all above my head. O tell me what they mean when they say one is born or one is dead.’

3

گردید موج نکهت و از شاخ گل دمید

پا اینچنین به عالم فردا و دی نهاد

پھر وہ خوشبو کی لہر میں ڈھل (تبدیل ہو) گئی اور گلاب کی ایک ٹہنی سے ظاہر ہوئی (شاخ گل سے پھوٹی)یوں اس نے ہر آن بدلی ہوئی دنیا میں قدم رکھا ۔

Changing herself to a breath of fragrance, she appeared in a rose’s form; and in this way she took up residence where day and night are the norm.

4

وا کرد چشم و غنچه شد و خنده زد دمی

گل گشت و برگ برگ شد و بر زمین فتاد

اس نے آنکھ کھولی اور کلی بن گئی اور دم بھر کر مسکرائی پھول بنی اور پتی پتی ہوئی اور خاک پر بکھر گئی ۔

She opened her eyes and became a bud: Then she laughed and she burst forth into a rose; but presently shed her petals in the dust.

5

زان نازنین که بند ز پایش گشاده اند

آهی است یادگار که بو نام داده اند

اس نازنین (حور) سے کہ جس کے پاؤں کی بیڑی کھول دی گئی (قید ہستی سے آزاد ہوئی) ایک آہ یادگار (بن کر) رہ گئی جسے خوشبو کا نام دیا گیا ۔ (بوقت رخصت اس نے ایک آہ اپنے سینے سے کھینچی، یہ اس کی آہ ہے جس کو ہم لوگ خوشبو کہتے ہیں ۔ نوٹ: جس طرح پھول کی اصل پاکیزہ خوشبو ہے جس کی کوئی شکل نہیں ہے اسی طرح آدمی کا پاکیزہ جوہر اس کی روح ہے جسم نہیں ۔ شاعر کی نگاہ میں خوشبو ایک لطیف آسمانی جوہر ہے جو مادہ سے پاک ہے ۔ یہ ایک دلکش تخیلی نظم ہے جس میں شاعر نے یہ بتایا ہے کہ پھول میں خوشبو کہاں سے آئی ۔

Of that innocent damsel who chose to fly from Eden’s magic frame there is one memento left a sigh, and fragrance is its name.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نعره زد عشق که خونین‌جگری پیدا شد

حُسن لرزید که صاحب‌نظری پیدا شد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 4 - تسخیر فطرت

اگلی نظم

خورشید بدامانم انجم به گریبانم

در من نگری هیچم در خود نگری جانم

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 6 - نوای وقت

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

زان پیش کز مداد دهم خامه را مدد

جویم مدد ز فضل تو ای مفضل احد

جامی»دیوان اشعار»قصاید»شمارهٔ 9

ای روی تو چو روز دلیل موحدان

وی موی تو چنان چو شب ملحد از لحد

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 25

بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله الکافی حسب الخلایق وحده و الحمدلله علی نعمه و استزید من کرمه و اشهد ان‌لااله‌الا هو الموصوف بقدمه و اشهد ان محمداً عبده و رسوله الطاوی السموات بقدمه.

اما بعد از ثنای خداوند عالم و ذکر بهترین فرزند آدم صلی‌الله‌علیه‌وسلم در نصیحت ارباب مملکت شروع کنیم به حکم آنکه یکی از دوستان عزیز جزوی در این معنی تمنّا کرد به فهم نزدیک و از تکلّف دور. جوابش نبشتم که شرایف ساعات فرزند آدم دام بقائه به وظایف طاعات خداوند جل ثنائه آراسته باد، معلوم کند که ملوک جهان را نصیحت رب العالمین بسنده است که در کتاب مجید می‌فرماید: و اذا حکمتم بین الناس أن تحکموا بالعدل. و دیگر فرمود: ان الله یأمُرُ بالعدل و الاحسان. مجملی فرمود تعالی و تقدّس که مفصل آن در دفترها نشاید گفتن. اما به قدر طاقت کلمه‌ای چند بیان کنیم در معنی عدل و احسان و بالله التوفیق.

سعدی»رسائل نثر»شمارهٔ 2 - رسالهٔ نصیحة الملوک [1-75]

از نغمه پرده مطرب دستانسرا کشید

دام پری شکار به روی هوا کشد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4320

وقتی که شکل دایره کن فکان نبود

جز نقطه حقیقت حق در میان نبود

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»ترکیبات»شمارهٔ 5 - این ترکیب بند دوازده بنده است، هر بند در منقبت یکی از ائمه اثناعشر و بیان این که ولایت از ولاست و ولا به معنی حب ذاتی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور