صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. اصناف
  2. »غزل/قصیده/قطعه
  3. »علامہ اقبال / پیام مشرق

صنف کے تحت کتاب

صنفِ غزل/قصیده/قطعه میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔

98 نظمیں

نظمیں

صنفِ غزل/قصیده/قطعه میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

  1. زندہ رود
  2. »اصناف
  3. »غزل/قصیده/قطعه
  4. »علامہ اقبال / پیام مشرق

غزل شمارهٔ 23–به شاخ زندگی ما نمی ز تشنه لبی است

ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔

The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 23

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 24–فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 24

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 25–بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔

There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 25

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 26–این گنبد مینائی این پستی و بالائی

یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔

This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 26

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 27–هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 27

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 28–دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 28

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 29–در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔

In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 29

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 30–گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔

Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 30

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 31–سوز سخن ز نالهٔ مستانهٔ دل است

سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔

The fervent quality of verse comes from the heart’s ecstatic cry. This candle is alight thanks to the heart, which is its moth.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 31

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 32–سطوت از کوه ستانند و بکاهی بخشند

پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔

The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 32

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 33–نه تو اندر حرم گنجی نه در بتخانه می‌آیی

نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔

You cannot fit into the Harem, nor into the idol-house. But O how eagerly you come to those who seek you eagerly.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 33

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 34–تب و تاب بتکدهٔ عجم نرسد به سوز و گداز من

عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔

The animation in the idol-temple of ‘Ajam does not match the great ardour of my heart, for with one glance Muhammad of Arabia has conquered the Hijaz that is in me.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 34

اردوEn
3 اشعار

غزل شمارهٔ 35–مثل آئینه مشو محو جمال دگران

آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔

Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 35

اردوEnآڈیو
5 اشعار

غزل شمارهٔ 36–جهان عشق نه میری نه سروری داند

عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔

No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 36

اردوEn
9 اشعار

غزل شمارهٔ 37–خواجه ئی نیست که چون بنده پرستارش نیست

کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔

There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 37

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 38–بیا که بلبل شوریده نغمه پرداز است

(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔

Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 38

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 39–خاکیم و تند سیر مثال ستاره‌ایم

ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔

We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 39

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 40–عرب از سرشک خونم همه لاله‌زار بادا

میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔

O may Arabia become a tulip-field, thanks to my tears of blood. May Ajam, which has lost its fragrance, find a new spring in my breath!

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 40

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 41–نظر تو همه تقصیر و خرد کوتاهی

تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔

Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 41

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 42–سر خوش از بادهٔ تو خم شکنی نیست که نیست

نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔

There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 42

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 43–اگرچه زیب سرش افسر و کلاهی نیست

اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔

Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 43

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 44–شعله در آغوش دارد عشق بی پروای من

میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔

My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 44

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 45–بتان تازه تراشیده‌ای دریغ از تو

تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔

O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!

علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 45

اردوEn
5 اشعار

بخش 2–جمعیت الاقوام

The League of Nations

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 2 - جمعیت الاقوام

اردوEn
2 اشعار

بخش 4–فلسفه و سیاست

Philosophy and Politics

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 4 - فلسفه و سیاست

اردوEn
2 اشعار

بخش 6–نیچه

Nietzsche

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 6 - نیچه

اردوEn
2 اشعار

بخش 7–حکیم اینشتین

Einstein

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 7 - حکیم اینشتین

اردوEn
6 اشعار

بخش 8–بایرن

Byron

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 8 - بایرن

اردوEn
4 اشعار

بخش 9–نیچه

Nietzsche

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 9 - نیچه

اردوEn
4 اشعار

بخش 11–پتوفی

Petöfi

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 11 - پتوفی

اردوEn
3 اشعار

بخش 13–هگل

Hegel

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 13 - هگل

اردوEn
2 اشعار

بخش 20–خرابات فرنگ

خرابات فرنگ

The Tavern of the West

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 20 - خرابات فرنگ

اردوEn
8 اشعار

بخش 21–خطاب به انگلستان

انگلستان سے خطاب

A Word to England

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 21 - خطاب به انگلستان

اردوEn
4 اشعار

بخش 22–قسمت‌نامهٔ سرمایه‌دار و مزدور

Division Between the Capitalist and the Labourer

علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 22 - قسمت‌نامهٔ سرمایه‌دار و مزدور

اردوEn
5 اشعار

بخش 1–میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

Trifles - Agony in every atom of our being

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 1 - میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

اردوEn
2 اشعار

بخش 2–دردانه ادا شناس دریاست

Trifles - The pearl is used to the ways of the sea

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست

اردوEn
1 شعر

بخش 3–کلک را ناله از تهی مغزی است

Trifles - The reed-pen, being hollow, makes a noise

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 3 - کلک را ناله از تهی مغزی است

اردوEn
1 شعر

بخش 5–سخنگو طفلک و برنا و پیر است

Trifles - The poet is child, youth and old man all in one

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 5 - سخنگو طفلک و برنا و پیر است

اردوEn
1 شعر

بخش 6–چشم را بینائی افزاید سه چیز

Trifles - Three things make your vision better

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 6 - چشم را بینائی افزاید سه چیز

اردوEn
2 اشعار

بخش 7–ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

Trifles - Of Life, O brother, I give thee a token

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 7 - ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

اردوEn
1 شعر

بخش 8–طاقت عفو در تو نیست اگر

Trifles - If you do not possess the power to forgive

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر

اردوEn
2 اشعار

بخش 9–از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

اردوEn
2 اشعار

بخش 10–در جهان مانند جوی کوهسار

Trifles - In this world either be a hill-stream

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 10 - در جهان مانند جوی کوهسار

اردوEn
2 اشعار

بخش 11–ایکه گل چیدی منال از نیش خار

Trifles - O you who plucked a rose

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 11 - ایکه گل چیدی منال از نیش خار

اردوEn
1 شعر

بخش 12–مزن وسمه بر ریش و ابروی خویش

Trifles - Do not apply a hair-dye

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 12 - مزن وسمه بر ریش و ابروی خویش

اردوEn
1 شعر

بخش 13–ندارد کار با دون همتان عشق

Trifles - Love has no use for those who do not dare

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 13 - ندارد کار با دون همتان عشق

اردوEn
1 شعر

بخش 14–نقد شاعر در خور بازار نیست

Trifles - The poet’s product is not saleable

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست

اردوEn
1 شعر

بخش 16–منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

Trifles - I am one who has walked around the Harem

علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

اردوEn
2 اشعار
  1. 1
  2. 2
پچھلا صفحہ