صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی کی شاخ میں طراوت پیاس سے ہے ۔ آب حیات کے چشمہ کی تلاش طلب کی خامی کی دلیل ہے ۔ عاشق صادق کی کامیا بی کا راز فراق میں ہے ۔ آرزوئے وصال خامی یا نادانی کی دلیل ہے ۔
The sap in the tree of our life comes from our thirst. To seek the spring of immortality is to be unadventurous.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 23
عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔
A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 24
تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔
There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 25
یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔
This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 26
لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 27
میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔
I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 28
ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔
In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 29
ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔
Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 30
سخن میں سوز دل کی مستانہ پکار سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس شمع کا اجالا دل کے پروانے کے دم سے ہے ۔
The fervent quality of verse comes from the heart’s ecstatic cry. This candle is alight thanks to the heart, which is its moth.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 31
پہاڑ سے ہیبت اور جلال چھین کر ایک تنکے کو بخش دیتے ہیں ۔ راستے میں پڑے ہوئے کسی فقیر کو جمشید کا تاج عطا کر دیتے ہیں ۔
The majesty is snatched away from mountains and bestowed on leaves of grass. A royal crown is put on the head of a roadside beggar.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 32
نہ حرم میں تیری سمائی ہے نہ بتخانے میں (خدا نہ مسجد میں ہے نہ مندر میں )لیکن آرزومندوں کی طرف تو کیسی چاہت سے آتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں آسمان اور زمین میں نہیں سماتا مگر مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں ۔
You cannot fit into the Harem, nor into the idol-house. But O how eagerly you come to those who seek you eagerly.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 33
عجم کے بتخانے کی چمک دمک میرے دل کے آنسو بھری آنچ کو نہیں پہنچتی (میرے سوز و گداز کو نہیں پہنچ سکتی) کہ محمدعربی نے ایک نگاہ میں میرا حجاز فتح کر لیا ۔
The animation in the idol-temple of ‘Ajam does not match the great ardour of my heart, for with one glance Muhammad of Arabia has conquered the Hijaz that is in me.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 34
آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔
Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 35
عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔
No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 36
کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔
There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 37
(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔
Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 38
ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔
We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 39
میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔
O may Arabia become a tulip-field, thanks to my tears of blood. May Ajam, which has lost its fragrance, find a new spring in my breath!
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 40
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔
Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 41
نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔
There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 42
اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔
Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 43
میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔
My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 44
تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔
O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!
علامہ اقبال » پیام مشرق » می باقی » غزل شمارهٔ 45
The League of Nations
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 2 - جمعیت الاقوام
Philosophy and Politics
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 4 - فلسفه و سیاست
Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 6 - نیچه
Einstein
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 7 - حکیم اینشتین
Byron
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 8 - بایرن
Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 9 - نیچه
Petöfi
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 11 - پتوفی
Hegel
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 13 - هگل
خرابات فرنگ
The Tavern of the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 20 - خرابات فرنگ
انگلستان سے خطاب
A Word to England
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 21 - خطاب به انگلستان
Division Between the Capitalist and the Labourer
علامہ اقبال » پیام مشرق » نقشِ فرنگ » بخش 22 - قسمتنامهٔ سرمایهدار و مزدور
Trifles - Agony in every atom of our being
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 1 - میخورد هر ذره ما پیچ و تاب
Trifles - The pearl is used to the ways of the sea
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست
Trifles - The reed-pen, being hollow, makes a noise
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 3 - کلک را ناله از تهی مغزی است
Trifles - The poet is child, youth and old man all in one
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 5 - سخنگو طفلک و برنا و پیر است
Trifles - Three things make your vision better
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 6 - چشم را بینائی افزاید سه چیز
Trifles - Of Life, O brother, I give thee a token
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 7 - ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان
Trifles - If you do not possess the power to forgive
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر
Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
Trifles - In this world either be a hill-stream
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 10 - در جهان مانند جوی کوهسار
Trifles - O you who plucked a rose
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 11 - ایکه گل چیدی منال از نیش خار
Trifles - Do not apply a hair-dye
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 12 - مزن وسمه بر ریش و ابروی خویش
Trifles - Love has no use for those who do not dare
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 13 - ندارد کار با دون همتان عشق
Trifles - The poet’s product is not saleable
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست
Trifles - I am one who has walked around the Harem
علامہ اقبال » پیام مشرق » خرده » بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار