صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست

بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست

Trifles - The poet’s product is not saleable

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: نانبهسیمنسترننتوانخرید

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

نقد شاعر در خور بازار نیست

نان به سیم نسترن نتوان خرید

شاعر کی متاع بازار میں لائے جانے کے قابل نہیں، گل نسترن کی چاندی سے روٹی نہیں خریدی جا سکتی ۔

The poet’s product is not saleable. The silver of a white rose will not buy you bread.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ندارد کار با دون همتان عشق

تذرو مرده را شاهین نگیرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 13 - ندارد کار با دون همتان عشق

اگلی نظم

چه خوش بودی اگر مرد نکویی

ز بند باستان آزاد رفتی

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 15 - چه خوش بودی اگر مرد نکویی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور