Trifles - How nice a thing it were
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
چه خوش بودی اگر مرد نکویی
ز بند باستان آزاد رفتی
کیا اچھا ہوتا کہ اگر نیک خو مرد ؛ گزرے ہوئے لوگوں کے بندھنوں سے آزاد رہ کر زندگی بسر کرتا ہے۔
How nice a thing it were if every traveler who wants to travel far and fast could go free from the trammels of the past.
اگر تقلید بودی شیوهٔ خوب
پیمبر هم ره اجداد رفتی
اگر تقلید اچھی بات ہوتی؛ تو ہمارے رسول پاک ﷺ بھی ابا و اجداد کا راستہ اختیار کرتے۔
If blind conformity were good, the Prophet himself would have gone the way of Arabs in an earlier day.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور