صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 15 - چه خوش بودی اگر مرد نکویی

بخش 15 - چه خوش بودی اگر مرد نکویی

Trifles - How nice a thing it were

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ادرفتی

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

چه خوش بودی اگر مرد نکویی

ز بند باستان آزاد رفتی

کیا اچھا ہوتا کہ اگر نیک خو مرد ؛ گزرے ہوئے لوگوں کے بندھنوں سے آزاد رہ کر زندگی بسر کرتا ہے۔

How nice a thing it were if every traveler who wants to travel far and fast could go free from the trammels of the past.

2

اگر تقلید بودی شیوهٔ خوب

پیمبر هم ره اجداد رفتی

اگر تقلید اچھی بات ہوتی؛ تو ہمارے رسول پاک ﷺ بھی ابا و اجداد کا راستہ اختیار کرتے۔

If blind conformity were good, the Prophet himself would have gone the way of Arabs in an earlier day.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نقد شاعر در خور بازار نیست

نان به سیم نسترن نتوان خرید

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست

اگلی نظم

منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

منم که پیش بتان نعره های هو زده ام

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور