صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

Trifles - I am one who has walked around the Harem

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: وزدهام

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار

منم که پیش بتان نعره های هو زده ام

وہ میں ہوں کہ جس نے بغل میں بت دبائے کعبے کا طواف کیا ہے ۔ وہ میں ہوں جس نے بتوں کے آگے اللہ ہو کا نعرہ بلند کیا ہے ۔

I am one who has walked around The Harem with an idol under my arms. I am one who has shouted Allah’s name When idols were in front of me.

2

دلم هنوز تقاضای جستجو دارد

قدم بجادهٔ باریک تر ز مو زده ام

میرا دل اب تک جستجو کا تقاضا کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے بال سے باریک راستے پر قدم رکھ دیا ہے (یعنی مسلک عاشقی بال سے بھی زیادہ باریک ہے یعنی دشوار ہے) ۔

My heart still wants That I should go on seeking, though I have set foot On a path thinner than a hair.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چه خوش بودی اگر مرد نکویی

ز بند باستان آزاد رفتی

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 15 - چه خوش بودی اگر مرد نکویی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور