Division Between the Capitalist and the Labourer
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
قافیہ: اازانتو
صنف: غزل/قصیده/قطعه
غوغای کارخانهٔ آهنگری ز من
گلبانگ ارغنون کلیسا از آن تو
فولاد کے کارخانے کا شور شرابہ میرا اور کلیسا کے باجے کی مدھر دھن تیری ۔
Capitalist: Mine is the din of the steel factory, and yours is the church organ’s melody.
نخلی که شه خراج بر او مینهد ز من
باغ بهشت و سدره و طوبا از آن تو
جس پر حاکم ٹیکس لگاتا ہے وہ پیڑ میرا اور وہ درخت جس سے بادشاہ خراج وصول کرتا ہے وہ میرا جنگ کا باغ اور سدرہ المنتہٰی اور طوبے تیرا ۔
Mine is the bush that pays the king a tax, yours Eden with its Sidrah and its Tuba.
تلخابهای که دردسر آرد از آن من
صهبای پاک آدم و حوا از آن تو
وہ تلخ شراب جو درد سر پیدا کرے ، میرے لیے ہے ۔ آدم اور حوا کی پاکیزہ شراب تیرے لیے ہے ۔
Strong liquor with a hangover is mine, for you drink comes from Adam and Eve’s brewery.
مرغابی و تذرو و کبوتر از آن من
ظل هما و شهپر عنقا از آن تو
مرغابی اور تیتر اور کبوتر میرے لیے ہیں اور ہما کا سایہ اور عنقا کا پنکھ تیرے لیے ہے ۔
Duck, pheasant, pigeon are my birds: huma and anqa are your royal property.
این خاک و آنچه در شکم او از آن من
وز خاک تا به عرش معلا از آن تو
یہ زمین اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ میرے لیے ہے اور زمین سے عرش معلیٰ تک سب کچھ تیرا ۔ (سرمایہ دار کی فیاضی داد طلب ہے کہ اس نے صرف زمین کو اپنی ملکیت بنانے پر قناعت کی ہے اور ساری کائنات جس میں جنت بھی شامل ہے مزدور کے حوالے کر دی ہے ۔ اس نظم کا ہر شعر طنز کی تصویر ہے ۔ اقبال نے سرمایہ دار کی ذہنیت کو عیاں کیا ہے) ۔
The earth and what is in its bowels are mine; from earth to heaven all is your territory.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور