صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 22 - قسمت‌نامهٔ سرمایه‌دار و مزدور

بخش 22 - قسمت‌نامهٔ سرمایه‌دار و مزدور

Division Between the Capitalist and the Labourer

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اازانتو

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

غوغای کارخانهٔ آهنگری ز من

گلبانگ ارغنون کلیسا از آن تو

فولاد کے کارخانے کا شور شرابہ میرا اور کلیسا کے باجے کی مدھر دھن تیری ۔

Capitalist: Mine is the din of the steel factory, and yours is the church organ’s melody.

2

نخلی که شه خراج بر او می‌نهد ز من

باغ بهشت و سدره و طوبا از آن تو

جس پر حاکم ٹیکس لگاتا ہے وہ پیڑ میرا اور وہ درخت جس سے بادشاہ خراج وصول کرتا ہے وہ میرا جنگ کا باغ اور سدرہ المنتہٰی اور طوبے تیرا ۔

Mine is the bush that pays the king a tax, yours Eden with its Sidrah and its Tuba.

3

تلخابه‌ای که دردسر آرد از آن من

صهبای پاک آدم و حوا از آن تو

وہ تلخ شراب جو درد سر پیدا کرے ، میرے لیے ہے ۔ آدم اور حوا کی پاکیزہ شراب تیرے لیے ہے ۔

Strong liquor with a hangover is mine, for you drink comes from Adam and Eve’s brewery.

4

مرغابی و تذرو و کبوتر از آن من

ظل هما و شهپر عنقا از آن تو

مرغابی اور تیتر اور کبوتر میرے لیے ہیں اور ہما کا سایہ اور عنقا کا پنکھ تیرے لیے ہے ۔

Duck, pheasant, pigeon are my birds: huma and anqa are your royal property.

5

این خاک و آنچه در شکم او از آن من

وز خاک تا به عرش معلا از آن تو

یہ زمین اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ میرے لیے ہے اور زمین سے عرش معلیٰ تک سب کچھ تیرا ۔ (سرمایہ دار کی فیاضی داد طلب ہے کہ اس نے صرف زمین کو اپنی ملکیت بنانے پر قناعت کی ہے اور ساری کائنات جس میں جنت بھی شامل ہے مزدور کے حوالے کر دی ہے ۔ اس نظم کا ہر شعر طنز کی تصویر ہے ۔ اقبال نے سرمایہ دار کی ذہنیت کو عیاں کیا ہے) ۔

The earth and what is in its bowels are mine; from earth to heaven all is your territory.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مشرقی باده چشیده است ز مینای فرنگ

عجبی نیست اگر توبهٔ دیرینه شکست

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 21 - خطاب به انگلستان

اگلی نظم

ز مزد بندهٔ کرپاس پوش محنت کش

نصیب خواجهٔ ناکرده کار رخت حریر

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 23 - نوای مزدور

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور