The Labourer’s Song
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
صنف: مثنوی
ز مزد بندهٔ کرپاس پوش محنت کش
نصیب خواجهٔ ناکرده کار رخت حریر
کھردرے لباس اور محنت کرنے والے مزدور کی مزدوری سے نکھٹو سرمایہ دار کو ریشم کا لباس ملا ۔
The hard work of the cotton-wearing labourer provides the idle rich with their silk robes.
ز خوی فشانی من لعل خاتم والی
ز اشک کودک من گوهر ستام امیر
میرا پسینہ حاکم کی انگشتری میں یاقوت، میرے بچے کا آنسو سردار کے گھوڑے کی زین کا موتی ہے ۔
The gem in the employer’s ring is made up of my sweat. The rubies in his horse’s reins are my child’s tears.
ز خون من چو زلو فربهی کلیسا را
بزور بازوی من دست سلطنت همه گیر
کلیسا میرے خون سے جونک کی طرح پھولا ہوا ۔ میرے زور بازو سے سلطنت کا ہاتھ سارے پر قابض ہے ۔
The Church is fat through sucking my blood like a leech. My arm’s strength forms the sinews of the state.
خرابه رشک گلستان ز گریهٔ سحرم
شباب لاله و گل از طراوت جگرم
ویرانہ میرے گریہ سحر سے رشک گلستاں بنتا ہے ۔ میرے جگر کے لہو سے لالہ و گل کی بہار ہے ۔
My morning tears make gardens of waste lands. My heart’s blood glistens in the tulip and the rose.
بیا که تازه نوا می تراود از رگ ساز
مئی که شیشه گدازد به ساغر اندازیم
اک ساز کے تاروں سے تازہ نغمہ ٹپک رہا ہے (نئی نوا پیدا ہو رہی ہے) ۔ وہ شراب جو شیشہ پگھلا دے ہم پیالے میں ڈالی ۔
Come, time’s harp is tense with new melodies. Come; pour out strong wine that will melt the very glass.
مغان و دیر مغان را نظام تازه دهیم
بنای میکده های کهن بر اندازیم
ساقی اور میخانے کو نیا نظام دیں پرانے میکدوں کی بنیاد ڈھا دیں ۔
Let us give a new order to the tavern and the taverner, and let us raze all ancient taverns to the ground.
ز رهزنان چمن انتقام لاله کشیم
به بزم غنچه و گل طرح دیگر اندازیم
چمن کے لٹیروں سے گل لالہ کا انتقام لیں ۔ کلیوں اور پھولوں کی بزم کی نئی بنیاد ڈالیں (نئے انداز سے ترتیب دیں ) ۔
Let us avenge the tulip’s blood on those who laid the garden waste. For rose and rosebud’s gatherings let us establish a new style.
به طوف شمع چو پروانه زیستن تا کی؟
ز خویش اینهمه بیگانه زیستن تا کی؟
پروانے کی طرح شمع کے طواف میں زندگی بسر کرنا کب تک اپنے آپ سے اس قدر انجان ہو کر جینا کب تک ۔ اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے ۔
How long shall we exist like moths that flit round candle flames? How long shall we exist forgetful of ourselves like this?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور