صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 23 - نوای مزدور

بخش 23 - نوای مزدور

The Labourer’s Song

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

ز مزد بندهٔ کرپاس پوش محنت کش

نصیب خواجهٔ ناکرده کار رخت حریر

کھردرے لباس اور محنت کرنے والے مزدور کی مزدوری سے نکھٹو سرمایہ دار کو ریشم کا لباس ملا ۔

The hard work of the cotton-wearing labourer provides the idle rich with their silk robes.

2

ز خوی فشانی من لعل خاتم والی

ز اشک کودک من گوهر ستام امیر

میرا پسینہ حاکم کی انگشتری میں یاقوت، میرے بچے کا آنسو سردار کے گھوڑے کی زین کا موتی ہے ۔

The gem in the employer’s ring is made up of my sweat. The rubies in his horse’s reins are my child’s tears.

3

ز خون من چو زلو فربهی کلیسا را

بزور بازوی من دست سلطنت همه گیر

کلیسا میرے خون سے جونک کی طرح پھولا ہوا ۔ میرے زور بازو سے سلطنت کا ہاتھ سارے پر قابض ہے ۔

The Church is fat through sucking my blood like a leech. My arm’s strength forms the sinews of the state.

4

خرابه رشک گلستان ز گریهٔ سحرم

شباب لاله و گل از طراوت جگرم

ویرانہ میرے گریہ سحر سے رشک گلستاں بنتا ہے ۔ میرے جگر کے لہو سے لالہ و گل کی بہار ہے ۔

My morning tears make gardens of waste lands. My heart’s blood glistens in the tulip and the rose.

5

بیا که تازه نوا می تراود از رگ ساز

مئی که شیشه گدازد به ساغر اندازیم

اک ساز کے تاروں سے تازہ نغمہ ٹپک رہا ہے (نئی نوا پیدا ہو رہی ہے) ۔ وہ شراب جو شیشہ پگھلا دے ہم پیالے میں ڈالی ۔

Come, time’s harp is tense with new melodies. Come; pour out strong wine that will melt the very glass.

6

مغان و دیر مغان را نظام تازه دهیم

بنای میکده های کهن بر اندازیم

ساقی اور میخانے کو نیا نظام دیں پرانے میکدوں کی بنیاد ڈھا دیں ۔

Let us give a new order to the tavern and the taverner, and let us raze all ancient taverns to the ground.

7

ز رهزنان چمن انتقام لاله کشیم

به بزم غنچه و گل طرح دیگر اندازیم

چمن کے لٹیروں سے گل لالہ کا انتقام لیں ۔ کلیوں اور پھولوں کی بزم کی نئی بنیاد ڈالیں (نئے انداز سے ترتیب دیں ) ۔

Let us avenge the tulip’s blood on those who laid the garden waste. For rose and rosebud’s gatherings let us establish a new style.

8

به طوف شمع چو پروانه زیستن تا کی؟

ز خویش اینهمه بیگانه زیستن تا کی؟

پروانے کی طرح شمع کے طواف میں زندگی بسر کرنا کب تک اپنے آپ سے اس قدر انجان ہو کر جینا کب تک ۔ اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے ۔

How long shall we exist like moths that flit round candle flames? How long shall we exist forgetful of ourselves like this?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غوغای کارخانهٔ آهنگری ز من

گلبانگ ارغنون کلیسا از آن تو

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 22 - قسمت‌نامهٔ سرمایه‌دار و مزدور

اگلی نظم

بطی می گفت بحر آزاد گردید

چنین فرمان ز دیوان خضر رفت

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 24 - آزادی بحر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور