صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 24 - آزادی بحر

بخش 24 - آزادی بحر

سمندر کی آزادی

The Freedom of the Sea

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ررفت

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

بطی می گفت بحر آزاد گردید

چنین فرمان ز دیوان خضر رفت

ایک بطخ کہہ رہی تھی سمندر آزاد ہوگیا (ہمارے لیے بحر میں گھومنے پھرنے کی پوری آزادی ہو گئی ہے) ۔ خضر کے دربار سے یہ فرمان جاری ہو گیا ۔

A duck said, ‘The lanes of the sea are now free! – The edict from the court of Khizr says so!’

2

نهنگی گفت رو هر جا که خواهی

ولی از ما نباید بی خبر رفت

ایک مگر مچھ بولا جہاں چاہے جا مگر ہم سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے ۔

A crocodile said, ‘Go anywhere you like, But never forget to watch out for us!’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز مزد بندهٔ کرپاس پوش محنت کش

نصیب خواجهٔ ناکرده کار رخت حریر

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 23 - نوای مزدور

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور