سمندر کی آزادی
The Freedom of the Sea
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
بطی می گفت بحر آزاد گردید
چنین فرمان ز دیوان خضر رفت
ایک بطخ کہہ رہی تھی سمندر آزاد ہوگیا (ہمارے لیے بحر میں گھومنے پھرنے کی پوری آزادی ہو گئی ہے) ۔ خضر کے دربار سے یہ فرمان جاری ہو گیا ۔
A duck said, ‘The lanes of the sea are now free! – The edict from the court of Khizr says so!’
نهنگی گفت رو هر جا که خواهی
ولی از ما نباید بی خبر رفت
ایک مگر مچھ بولا جہاں چاہے جا مگر ہم سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے ۔
A crocodile said, ‘Go anywhere you like, But never forget to watch out for us!’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور